رسائی کے لنکس

چین: اہم خلائی مشن کی روانگی کی تیاریاں مکمل


چین: اہم خلائی مشن کی روانگی کی تیاریاں مکمل

چین: اہم خلائی مشن کی روانگی کی تیاریاں مکمل

چین کے سائنس دان جمعرات کی شام روانہ کیے جانے والے ایک خلائی مشن کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں جسے چین کی جانب سے خلا میں اپنا علیحدہ اسٹیشن تعمیر کرنے کے پرعزم منصوبے کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز ساڑھے آٹھ ٹن وزنی اس خلائی مشین کی طے شدہ روانگی کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں اس کے متعلق مفصل رپورٹیں شائع اور نشر کی جا رہی ہیں۔

خلائی مشن کو 'ٹیان گونگ-1' یعنی 'جنت کا محل' کا نام دیا گیا ہے۔ یکم نومبر کو روانہ کیے جانے والا ایک دوسرا مشن خلا میں پہنچنے کے بعد 'ٹیان گونگ-1' سے جا ملے گا۔ چین کے خلائی سائنس کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ اس کے دو مشنز خلا میں باہم منسلک ہوں گے۔

مذکورہ مرحلے کی خوش اسلوبی سے تکمیل کے بعد چین آئندہ برس کے اختتام تک ایسے مزید تین مشنز خلا میں بھیجے گا جو وہاں پہلے سے موجود تنصیب سے جا ملیں گے۔ ان تین مجوزہ خلائی مشن میں سے کم از کم ایک میں خلاباز سوار ہوں گے۔

اس عمل کے ذریعے چین 2016ء تک خلا میں اپنی علیحدہ لیبارٹری اور 2020ء تک 60 ٹن وزنی خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ رکھتا ہے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے خلا باز مورس جونز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جمعرات کو بھیجے جانے والے خلائی مشن کے نتیجے میں چینی سائنس دان بعض ایسی ٹیکنالوجیز کو جانچنے کے قابل ہو جائیں گے جن کی انھیں خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے آغاز پر ضرورت پڑے گی۔

اخبار 'چائنا ڈیلی' نے جمعرات کو شائع کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں چین کے خلائی پروگرام کی خاتون ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کا ملک چاند پر انسانی مشن بھیجنے اور خلائے بسیط کی جانب مشن کی روانگی میں اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرسکتا ہے۔

تاہم چاند پر انسانی مشن بھیجنے کے حوالے سے چین نے تاحال کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔

مورس جونز کے مطابق مبصرین کو یقین ہے کہ چین کے خلائی پروگرام کا اصل مقصد چاند پر انسان کو اتارنا ہے۔

جمعرات کو بھیجے جانے والے مشن کو اس سے قبل 18 اگست کو روانہ ہونا تھا تاہم اسے لے جانے والے 'لانگ مارچ 2-سی' نامی راکٹ میں فنی خرابی کے باعث اس کی روانگی موخر کردی گئی تھی۔

چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خرابی کے بعد سے وہ 'ٹیانگ گونگ -1' کو خلا میں لے جانے والے اس راکٹ میں 170 سے زائد بڑھوتریاں کر چکے ہیں۔

چین نے خلاء میں اپنا پہلا انسان بردار مشن 2003ء میں روانہ کیا تھا جب کہ امریکہ اور روس چار دہائیاں قبل ہی ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG