رسائی کے لنکس

چین کی طرف سے ’ہائپر سونک‘ میزائلوں کے تجربات


فائل فوٹو

فائل فوٹو

چین کی طرف سے حال ہی میں 9 جون کو آواز کی رفتار سے زیادہ تیز میزائل کو تجرباتی طور پر چھوڑنے کی تصیدیق کی گئی ہے۔

چین نے گزشتہ چار ماہ کے دوران چار ’ہائپر سونک‘ میزائلوں کے تجربات کیے ہیں جو آواز سے زیادہ تیز رفتار ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین ہتھیاروں کو جدید بنانے کی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہائپر سونک ہتھیار آواز کی رفتار سے پانچ گنا سے بھی زیادہ تیز رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔

چین کی طرف سے حال ہی میں 9 جون کو آواز کی رفتار سے زیادہ تیز میزائل کو تجرباتی طور پر چھوڑنے کی تصیدیق کی گئی، تاہم بیجنگ کا اصرار ہے کہ جوہری ہتھیاروں کو ایک ریکارڈ رفتار سے لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے ان میزائلوں کے تجربات کی نوعیت ’’خالصتاً سائنسی ہے اور (ان کا مقصد) کسی ملک کو ہدف بنانا نہیں ہے۔‘‘

امریکہ، روس اور بھارت بھی آواز سے زیادہ تیز رفتار میزائلوں کی تیاری پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان میزائلوں کا مقصد حریف (ممالک کے) میزائلوں کا سدباب اور خلائی دفاع کرنے کے علاوہ ہدف کو صیح نشانہ بنانا اور ہتھیاروں کی تیز رفتار ترسیل کرنا ہے۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک ’کارنیگی انڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس‘ سے وابستہ ایک سینئر ایسوسی ایٹ اور جوہری پالیسی پروگرام کے شریک ڈائریکٹر جیمز ایکٹن نے کہا کہ اگرچہ اطلاعات کے مطابق چین کی طرف سے کیے گئے چار تجربوں میں سے ایک ناکام ہو گیا اور چین اب بھی میزائل ٹیکنالوجی میں امریکہ سے بہت پیچھے ہے تاہم وہ ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں بڑی تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے اور ان کے بقول یہ مستقبل میں امریکہ سے آگے بڑھ سکتا ہے۔

امریکہ 2010 سے آواز کی رفتار سے زیادہ تیز حرکت کرنے والے میزائلوں کے تجربات کر رہا ہے اور اس کی طرف سے چوتھا کامیاب تجربہ دو سال قبل مکمل کیا گیا تھا۔

اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ آواز کی رفتار سے تیز حرکت کرنے والے میزائلوں کو آئندہ 5 سے 10 سال تک فوجی ہتھاروں میں شامل کیا جا سکتا ہے جس سے امریکہ کی بيلسٹِک ميزائل سے مار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔

حالیہ برسوں میں امریکی کانگریس نے بھی چین کی طرف سے آواز سے زیادہ تیزرفتار ٹیکنالوجی میں کی جانے والی پیش رفت پر تحفظات کے علاوہ ہے اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ امریکہ بین الاقوامی سطح پر آواز سے زیادہ تیزرفتار ہتھیاروں کی دوڑ میں پیچھے رہ سکتا ہے۔

امریکہ کے عہدیدار اب بھی توقع کرتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی تیزی سے نشانہ بنانے والے آواز سے تیز رفتار میزائلوں میں برتری برقرار رکھ کر امریکہ ممکنہ دشمنوں کو حملہ کرنے میں پہل کرنے سے باز رکھ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG