رسائی کے لنکس

جنسی زیادتی کے الزام میں چینی نوجوان کو دس سال قید کی سزا


لی تیانیی (فائل فوٹو)

لی تیانیی (فائل فوٹو)

چینی جنرل کے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے یہ نہیں جانتا کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔

چین میں ایک عدالت نے فوج کے ایک جنرل کے نوجوان بیٹے کو زناالجبر کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

جمعرات کو عدالت نے کہا کہ 17 سالہ لی تیانیی اور چار دیگر افراد نے رواں سال فروری میں ایک ہوٹل میں ایک خاتون سے جنسی زیادتی کی۔

لی کا کہنا تھا کہ وہ شراب کے نشے میں تھا لہذا اسے عورت کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا اندازہ نہیں۔ اس نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ ملاقات بیجنگ کے ہوٹل میں ہوئی تھی۔ نوجوان کے اہل خانہ اسے جسم فروشی کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔

تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ لی عورت کو گھسیٹتے ہوئے ہوٹل لے کر گیا اور وہاں عریاں کر کے آبروریزی کرنے والوں میں وہ پہلا شخص تھا۔

واقعے میں ملوث پانچ افراد میں سے صرف ایک بالغ تھا۔ دیگر ملزمان کو تین سے بارہ سال قید کی سزائیں دی گئیں۔

اس مقدمے کو چین میں غیر معمولی توجہ حاصل رہی کیونکہ سزا و احتساب سے بالا تصور کی جانے والی اشرافیہ اور ان کے بچوں کے رویے پر لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

لی کے والد پیپلز لیبریشن آرمی کے جنرل تھے اور انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ٹی وی پر ملی نغمے گا کر کافی شہرت حاصل کی۔

2011ء میں لی کو بیجنگ میں ایک جوڑے کے ساتھ گاڑی ٹکرانے کے بعد ان پر حملہ کرنے کے جرم میں بچوں کے اصلاحی مرکز میں ایک سال کے لیے رہنا پڑا۔

چینی صدر ژی جنپنگ اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔ وہ اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ بدعنوانیوں کے خلاف کارروائیاں کریں گے کیونکہ ان کے بقول اس میں ناکامی کی صورت میں کمیونسٹ پارٹی کی اقتدار پر گرفت کمزور ہو سکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG