رسائی کے لنکس

چین: شن جیانگ اغواکاروں کا مشن’’جہاد‘‘ تھا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

چین نے کہا ہے کہ مغربی خطے شن جیانگ میں گزشتہ ہفتے پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سات افراد ’’مقدس جنگ‘‘ شروع کرنے کے لیے ملک سے فرار ہو نے کی کوشش کررہے تھے اور سرحد کی طرف جاتے وقت اُنھوں نے کچھ چرواہوں کو بھی اغوا کرلیا تھا۔

بدھ کو چین کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اغوا کاروں نے شن جیانگ کی جنوبی پشان کاؤنٹی میں دو افراد کو یرغمال بنایا تھا جوپاکستان اور بھارت کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق چینی پولیس نے سات مشتبہ افراد کو گولیاں مار کر ہلاک اوراُن کے چار زخمی ساتھیوں کو گرفتار کرلیا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں معمول کی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’زیربحث افراد نام نہاد مقدس جنگ شروع کرنے کی غرض سے سرحد عبور کر کے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ موقع ملنے پرفرار ہونے والے کچھ چرواہوں نے حکام کو اس صورت حال کے بارے میں مطلع کیا جس پر انھوں نے موقع پر پہنچ کراغواکاروں کو اپنا منصوبہ ترک کرنے کا حکم دیا۔

’’ان مذاکرات کے دوران اُنھوں نے بے رحمی سے کچھ چینی پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا جبکہ کئی کو زخمی بھی کردیا۔ یہ بلاشبہ پرتشدد دہشت گردی کا ایک واقعہ ہے۔‘‘

وزارت خارجہ کے ترجمان نےاغواکاروں اور پاکستان کے درمیان رابطوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔

ماضی میں یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ شن جیانگ یغور مسلمان باغیوں کو پاکستان میں مقیم اسلامی انتہا پسند تنظیموں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

پشان کاؤنٹی میں یغور کی اکثریت ہے۔ لیکن جلاوطن چینی اور انسانی حقوق کے علمبردار کارکنوں کا کہنا ہے کہ چین شن جیانگ میں سخت گیر پالیسیوں کو صیح ثابت کرنے کے لیےعسکریت پسندوں کی طرف سے درپیش خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں یغور مسلمان باغیوں کے حملوں میں شن جیانگ میں کم ازکم 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جبکہ 2009ء کے وسط میں ارمچی شہر میں اکثریتی ہان چینی آبادی کے خلاف یغور آبادی کے فسادات میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 197 لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG