رسائی کے لنکس

تبت کے ترقیاتی منصوبوں پر 50 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں: چین


تبت کے ترقیاتی منصوبوں پر 50 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں: چین

تبت کے ترقیاتی منصوبوں پر 50 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں: چین

چین نے کہاہے کہ 1951ء میں وہ تبت کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب تک وہاں کے سینکڑوں ترقیاتی منصوبوں پر 50 ارب ڈالر کے لگ بھگ خرچ کرچکاہے۔

یہ اعدادو شمار منگل کے روزچینی اخبارات میں تبت میں چینی اقتدار کی 60 سالگرہ کے موقع پر شائع ہونے والے ایک وائٹ پیپر میں دیے گئے ہیں۔ چین اس واقعہ کو پرامن آزادی کا نام دیتا ہے جب کہ بہت سے تبتی باشندے اسے فوجی قبضہ قرار دیتے ہیں۔

وائٹ پیپر میں کہا گیاہے کہ چین نے 1951ء سے اب تک تبت کی طویل المدت ترقی میں مدد کے لیے وہاں چار سوسے زیادہ منصوبوں پر 46 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کرچکاہے۔وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت اپنی خصوصی پالیسیوں کے ذریعے بینکنگ، مالیات، ٹیکس، صحت ، تعلیم اور دیگرشعبوں میں تبت کو مدد فراہم کررہاہے۔

وائٹ پیپر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے تبت کے تمام نسلی گروپوں کو اپنے مذہی عقائد کی آزادیوں کی ضمانت فراہم کی ہے۔

چین کی جانب سے پیش کی جانے والی تبت کی یہ تصویر ، جلاوطنی کی زندگی گذارنے والے تبتیوں کے خیالات سے یکسر مختلف ہے جن کا کہناہے کہ چین بودھ مذہب اور ان کی ثقافتی روایات کو دبانے کے لیے امتیازی پالیساں برت رہاہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چین نے ہزاروں ہان نسل کے چینیوں کی تبتی علاقے میں نقل مکانی کی حوصلہ افزائی ہے جن کا وہاں کے انتظامی امور اور معیشت میں عمل دخل مسلسل بڑھ رہاہے۔

تین سال قبل تبت میں نسلی بے چینی کے نتیجے میں فسادات پھوٹ پڑنے کے بعد دارالحکومت لاسا کے علاقے سے سینکڑوں افراد گرفتاریا لاپتا ہوگئے تھے اور وہاں چین کے فوجی دستوں کی تعداد بڑھا دی گئی تھی۔

حالیہ دنوں میں چین نےسچوان صوبے میں واقع ایک تبتی عبادت گاہ کے گرد بڑا سیکیورٹی حصار قائم کرکھاہے جہاں مارچ کے مہینے میں ایک نوجوان بھکشو نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً خود سوزی کرلی تھی۔

XS
SM
MD
LG