رسائی کے لنکس

عدالتی حکم نامے میں سابق چینی صدر اور دیگر اہل کاروں کی گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ قتلِ عام سے متعلق الزامات کے بارے میں حکام اُن سے پوچھ گچھ کر سکیں

اسپین کی قومی عدالت نے تبت کے مبینہ قتلِ عام میں ملوث ہونے کے شبہے میں سابق چینی صدر جیانگ زیمن اور دیگر چار اہل کاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ نے منگل کے روز مدعا علیہ سے میڈرڈ کی عدالت کی طرف سے جاری کردہ اِس حکم نامے کی نقل حاصل کی ہے۔

یہ دستاویز ایک روز قبل جاری ہوا, جِس میں سابق چینی صدر اور دیگر اہل کاروں کی گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ قتلِ عام سے متعلق الزامات کےبارے میں حکام اُن سے پوچھ گچھ کر سکیں۔

مدعا علیہ، جنھوں نے اِس عدالتی حکم نامے کی نقل فراہم کی، اُن کا تعلق ’تبت سپورٹ کمیٹی‘ سے ہے، جو کہ ایک ہسپانوی گروپ ہے، جو چین میں تبتیوں کے حقوق کی حمایت کرتا ہے۔

چین نے ہسپانوی عدالت کی کارروائی کےبارے میں فوری طور پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

نو اکتوبر کے قتلِ عام کے ایک اور واقعے کے سلسلے میں، عدالت نے ایک اور سابق چینی صدر، ہُو جِن تاؤ کے خلاف فردِ جرم جاری کی ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ اِس کارروائی کی مذمت کر چکی ہے، جو اُس کے بقول، چین کے داخلی امور میں ’دخل اندازی ‘کے مترادف ہے۔
XS
SM
MD
LG