رسائی کے لنکس

چین میں ٹریفک جام کا مسئلہ مزید سنگین، عوام سے تجاویز طلب


چین میں ٹریفک جام کا مسئلہ مزید سنگین، عوام سے تجاویز طلب

چین میں ٹریفک جام کا مسئلہ مزید سنگین، عوام سے تجاویز طلب

بیجنگ میں روز بہ روز ہونے والا ٹریفک جام کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے ۔ اس مسئلے کے حل کے لئے جہاں حکومتی عہدیدار سر جوڑ کر بیٹھے ہیں وہیں عوام الناس سے بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے تجاویز مانگی گئی ہیں۔

ان تجاویزمیں سب سے زیادہ اہمیت جس تجویز کو دی جارہی ہے وہ حکومتی کاروں پر کنٹرول کی تجویز ہے۔ اس وقت صرف بیجنگ شہر میں حکومتی کاروں کی تعداد سات لاکھ ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد اس حق میں ہے کہ یا تو حکومتی کاروں کی بڑھتی ہوئی تعدا د پر پابندی لگادی جائے یا کم از کم کر اس پر روک لگا دی جائے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کی غرض سے چینی حکومت کی ایک ویب سائٹ پر متعدد آئیڈیاز بھی موجود ہیں جن میں سرکاری ٹرانسپورٹ میں بہتری، کم سے کم وقت میں سڑکوں کی تعمیر اور لوگوں پر اس حوالے سے زور ڈالنا ہے کہ وہ اپنے اپنے دفاتر کے قریب رہائش اختیار کریں ۔

عوام سے تجاویز کی طلبی کے حوالے سے کچھ دلچسپ پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ مثلاً سرکاری طور پر سا ئیکلوں کی کرائے پر فراہمی اور مخصوص علاقوں میں عوام سے سائیکل چلانے کی فیس وصول کرنے جیسی تجاویز بھی شامل ہیں۔

بیجنگ دنیا کا سب سے گنجان آباد علاقہ شمار ہوتا ہے ۔ سن 2005میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد چھبیس لاکھ تھی جو اب بڑھتے بڑھتے سینتالیس لاکھ ہوگئی ہے۔ شہر میں ہرروز دو ہزار نئی کاریں رجسٹرڈ ہوتی ہیں ۔

دسمبر کے پہلے ہفتے میں 20 ہزار نئی کاروں کی رجسٹریشن ایک ریکارڈ ہے ۔ نہایت کم مدت کے باوجود بڑی تعدادمیں رجسٹریشن کی وجہ یہ رہی کہ لوگوں کو خدشہ تھا کہ کہیں عوام سے مانگی گئی تجاویز کو عملاً نافذ نہ کردیا جائے ۔اس خدشے کے سبب ایک ہفتے میں ریکارڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن ہوئی۔ علاوہ ازیں ان افواہوں کی وجہ سے بھی یہ تعداد یکدم بڑھ گئی کہ حکومت نئے لائسنس کے اجرا کو نہایت سخت بنارہی ہے۔ ایک افواہ یہ بھی تھی کہ لائسنس کی فیس میں بہت اضافہ کیا جارہا ہے۔

چین میں آٹو موبائل مارکیٹ ترقی کی نئی منزلیں چھورہی ہے۔ اس وقت چین دنیا کی سب سے بڑی آٹومارکیٹ ہے۔ اس سبب بھی چین میں ٹریفک جام کا مسئلہ سنگین تر ہوگیا ہے۔

گزشتہ اگست میں ایک سو کلو میٹر طویل ہائی وے پر مسلسل نو دن تک ٹریفک جام رہا جس سے متعدد مسائل پیدا ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG