رسائی کے لنکس

ریل حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، وزیراعظم وین جیا باؤ


ریل حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، وزیراعظم وین جیا باؤ

ریل حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، وزیراعظم وین جیا باؤ

چین کے وزیرِ اعظم وین جیا باؤ نے حال ہی میں پیش آنے والے ٹرین حادثے کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس میں کسی بھی فرد کی کوتاہی ثابت ہوئی تو اسے سخت ترین سزا دی جائے گی۔

جمعرات کو جائے حادثہ کے دورے کے موقع پر وزیرِاعظم نے کہا کہ عوام کی زندگیوں کا تحفظ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

واضح رہے کہ ہفتہ کو پیش آنے والا حادثہ 2008ء کے بعد سے چین کا بدترین ٹرین حادثہ تھا جس میں 39 افراد ہلاک اور 200 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے قبل ریلوے حکام نے کہا تھا کہ حادثہ سگنل کے نظام میں آنےوالی ایک خرابی کے سبب پیش آیا۔ حکام کے مطابق بجلی کے تیز جھماکے کے باعث شنگھائی کے جنوب میں واقع ایک تیز رفتار لائن پر ایک ٹرین کو روکا گیا تھا تاہم خرابی کے باعث سگنل کی سبز بتی سرخ نہیں ہوپائی جس کے سبب پیچھے سے آنے والی ایک تیز رفتار ٹرین کھڑی ہوئی ریل سے ٹکرا گئی۔

تصادم اس قدر شدید تھا کہ ریل کی کئی بوگیاں وہاں موجود پل سے نیچے جاگریں۔

حکام نے کہا ہے کہ چینی ساختہ سگنلنگ کے نظام میں آنے والی خرابی کے بعد نزدیک واقع وینژو شہر کے ریلوے اسٹیشن کے عملہ کو موقع پر پہنچ کر خرابی کو درست کرنا چاہیے تھا۔

حادثہ کے بعد سے چین کی ویب سائٹس اور اخبارات میں غیر روایتی طور پر ملک کے ریلوے حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حادثہ کا شکار ہونے والے متاثرین کے 100 سے زائد رشتہ داروں نے بھی بدھ کو وینژو کے ریلوے سٹیشن پر جمع ہوکر حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ حادثہ کی وجوہات کی وضاحت کریں۔

شدید تنقید سے تنگ آکر چینی حکومت نے ملکی ریلوے نظام کا حفاظتی معیار جانچنے کے لیے مہم شروع کرنے کا حکم دیا ہے جو دو ماہ تک جاری رہے گی۔ حکومت کی جانب سے حادثے کی تفصیلی تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں جبکہ ریلوے کے تین عہدیداران کو بھی ان کے عہدوں سے برطرف کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد شدید ردِ عمل ظاہر کیا گیا تھا کہ حکام نے حادثہ کا بہت سا ملبہ تجزیے کے لیے بھجوانے کے بجائے موقع پر ہی دفن کردیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے اس اقدام کا مقصد موقع پر جاری امدادی سرگرمیوں میں سہولت پیدا کرنا تھا۔

اس حوالے سے بھی شکایات سامنے آرہی ہیں کہ حکام کی جانب سے حادثے کے بعد ملبے میں دبے زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش کا کام بھی جلد ختم کردیا گیا تھا۔ زندہ افراد کی تلاش ختم کردینے کے کئی گھنٹوں بعد ٹرین کے ملبہ سے ایک دو سالہ بچی زندہ نکل آئی تھی۔

XS
SM
MD
LG