رسائی کے لنکس

ترکی کے وزیرِ اعظم رجب طیب اردوان چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں جہاں وہ دو طرفہ اقتصادی اور سیاسی روابط میں اضافے کے لیے چین کی اعلیٰ قیادت سے مذاکرات کریں گے۔

پیر کو بیجنگ پہنچنے پر وزیرِاعظم اردگان کا شان دار استقبال کیا گیا۔ یاد رہے کہ کسی بھی ترک وزیرِاعظم کا گزشتہ 27 برسوں میں چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔

ترک وزیرِاعظم اپنے دورے کے دوران میں اپنے چینی ہم منصب وین جیا باؤ کے علاوہ صدر ہوجن تاؤاور نائب صدر ژی جن پنگ سے ملاقاتیں کریں گے۔

ترکی کے وزیرِ توانائی تانیر یلدیز نے کہا ہے کہ چین کو بحیرہِ سیاہ کے ساحل پر جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا معاملہ وزیرِاعظم اردگان کے حالیہ دورے میں طے پاجائے گا۔

اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے حکام ترک وزیرِاعظم کے دورے کے دوران میں اس معاملہ پر حتمی مذاکرات کریں گے۔

قبل ازیں بیجنگ آنے سے قبل وزیرِاعظم اردگان نے اپنے وفد کے ہمراہ اتوار کو چین کے دور دراز مغربی صوبے سنکیانگ کا دورہ کیا تھا۔

سنکیانگ میں ایغور نسل کے مسلمانوں کی اکثریت ہے جن کا نسلی تعلق ترکوں سے جوڑا جاتا ہے۔ ترکی اس علاقے میں صنعتی زون قائم کرنے کا خواہاں ہے۔

اپنے اس دورے کے دوران میں وزیرِاعظم اردوان ترکی کے 300 بڑے تاجروں اور کاروباری شخصیات پر مشتمل اپنے وفد کے ہمراہ چین کے صنعتی مرکز شنگھائی بھی جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG