رسائی کے لنکس

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق 'جے-31' کا حجم 'ایف – 35' کے برابر ہے اور یہ چین کا مقامی سطح پر تیار کیا جانے والا دوسرا ایسا جنگی جہاز ہے جو راڈار پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

چین نے راڈار پر نظر نہ آنے والا انتہائی جدید لڑاکا طیارہ نمائش کے لیے پیش کردیا ہے جو ماہرین کے مطابق امریکی ساختہ 'ایف-35' جنگی طیارے کا جواب ہے۔

دو انجنوں پر مشتمل 'جے-31' طیارہ چین کی صفِ اول کی طیارہ ساز کمپنی 'ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (ایوکِ)' نے تیار کیا ہے جسے منگل کو جنوبی شہر ژوہائے میں ہونے والے جہازوں کے سالانہ بین الاقوامی میلے میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق طیارے نے منگل کو تماشائیوں کے سامنے پہلی آزمائشی پرواز بھری جس کے بعد اصل طیارے کو نمائش سے ہٹا کر اس کی جگہ اس کے ماڈل رکھ دیے گئےہیں۔

طیارہ بنانے والی کمپنی 'ایوِک' یہ بتانے سے گریز کر رہی ہے کہ اسے اب تک اس نئے جہاز کے کتنے آرڈر مل چکے ہیں اور کس کس ملک نے اس جہاز کو خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

کمپنی کے ایک ترجمان نے 'رائٹرز' کے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ انہیں فی الحال طیارے کی تشہیر نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ ترجمان نے اس حکم کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے معذرت ظاہر کی۔

'ایوِک' کے ذمہ داران کے مطابق ژوہائے میں جاری ایئر شو کے دوران طیارے کے دو مزید فضائی مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔

'رائٹرز' کے مطابق چین کو امید ہے کہ 'جے-31' طیارہ راڈار پر نظر نہ آنے والے امریکی ساختہ جنگی طیارے 'ایف -35' کا متبادل ثابت ہوگا اور بین الاقوامی منڈی اور گاہکوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب رہے گا۔

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے امید ظاہر کی ہے کہ 'جے-31' ان ملکوں کی پہلی پسند قرار پائے گا جو مختلف پابندیوں یا خوشگوار سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث امریکہ سے اسلحہ درآمد نہیں کرپاتے۔

رواں سال اپنی ایک رپورٹ میں امریکی محکمۂ دفاع نے کہا تھا کہ 'جے-31' کا حجم 'ایف – 35' کے برابر ہے اور یہ چین کا مقامی سطح پر تیار کیا جانے والا دوسرا ایسا جنگی جہاز ہے جو راڈار پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اسلحہ سازی اور جنگی ساز و سامان کی تیاری کی جانب توجہ مرکوز کی ہے جس کے نتیجے میں چین دنیا میں اسلحہ تیار اور برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک بن کر ابھرا ہے۔

XS
SM
MD
LG