رسائی کے لنکس

صدر اوباما اور دلائی لامہ ملاقات، انسانی حقوق کے احترم پر زور


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

چین نے صدر اوباما اور دلائی لامہ کے درمیان مذاکرات کے بعد امریکہ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ۔

صدربراک اوباما نے ہفتے کے روز دلائی لامہ کے ساتھ ملاقات میں تبتیوں کے انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔

بند دروازے کی اس ملاقات کے بعد، جس کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی تھی، وہائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ صدر اوباما نے اپنے اختلافات دور کرنے کے لیے دلائی لامہ کے نمائندوں اور چینی حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات پر زور دیا۔

صدر اوباما نے یہ موقف بھی دوہرایا کہ امریکی پالیسی یہ ہے کہ تبت کو چین کا حصہ ہے۔

چین نے صدر اوباما اور دلائی لامہ کے درمیان مذاکرات کے بعد امریکہ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملاقات چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی جس سے چینی عوام کے جذبات کو ٹھیس لگی ہے اور چین امریکہ تعلقات کو نقصان پہنچا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کو چین کے موقف پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہتے اور بقول ترجمان امریکہ کوچین دشمن علیحدگی پسند قوتوں کی حمایت بند کرتی چاہیے۔

چین دلائی لامہ پر یہ الزام لگاتا ہے کہ وہ تبت کی چین سے علیحدگی کے لیے کام کررہے ہیں ۔ جب کہ وہ اس سے انکار کرتے ہیں۔

قبل ازیں چین نے امریکہ کے صدر براک اوباما پر زور دیا تھا کہ وہ تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے لیے دی گئی دعوت کو منسوخ کردیں۔

اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان 2010ء میں وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی جس پر چین نے خاصی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ چین گزشتہ ایک ہفتے سے امریکی حکام کو خبردار کرتا آرہا ہے کہ وہ دلائی لاما کے ساتھ سرکاری ملاقاتوں سے گریز کریں کیونکہ چین کے بقول وہ غیر ملکی حکومتوں کی جانب سے "مادرِ وطن کی تقسیم" کی حوصلہ افزائی پر مشتمل سرگرمیوں کا مخالف ہے۔

رواں ہفتے دلائی لامہ نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر انہیں صدر اوباما سے ملاقات کا موقع ملا تو انہیں اس کی بہت خوشی ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی امریکہ کے دورے کا بنیادی مقصد بدھ مت کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔

دلائی لامہ 'کالا چکرا' نامی 11 روزہ مذہبی رسم کی ادائیگی کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں جو پہلی بار امریکی دارالحکومت میں منعقد ہو رہی ہے۔ رسم کا مقصد مراقبہ اور بدھ مت کی تعلیمات کے ذریعے داخلی سکون کو اجاگر کرکے دنیا بھر میں پھیلے تنازعات کو کم کرنا ہے۔

گو کہ تبت کے روحانی پیشوا رواں برس سیاست سےعملی طور پر دستبردار ہوچکے ہیں تاہم امریکہ میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام اور دیگر سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

تبت کی جلاوطن حکومت کے سیاسی رہنما کی حیثیت سے دستبرداری کے بعد دلائی لامہ کا امریکہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

XS
SM
MD
LG