رسائی کے لنکس

امریکہ ہماری سرحد کے قریب نگرانی کے مشنز بند کرے: چین


چین کے سرکاری خبر رساں ادارے، ’شنہوا‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فان نے رائس سے کہا کہ امریکی فوج کو چاہیئے کہ نگرانی کے کام میں کمی لائے اور بالآخر اسے بند کرے

چینی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ چینی علاقے کے قریب نگرانی کے مشنز بند کیے جائیں۔
یہ بات چین کے ملٹری کمیشن کے نائب سربراہ، فان چانگ لونگ اور دورے پر آئی ہوئی امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کی مشیر، سوزن رائس کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے، ’شنہوا‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فان نے رائس سے کہا کہ امریکی فوج کو چاہیئے کہ نگرانی کے کام میں کمی لائے اور بالآخر اسے بند کرے۔

اگست میں، جنوبی بحیرہٴچین کے بین الاقوامی پانیوں کے اوپر پرواز کے دوران ایک چینی لڑاکا طیارے اور نگرانی پر مامور امریکی جہاز کے درمیان ٹکر ہوتے ہوتے رہ گئی تھی، جس کے بعد دونوں کی طرف سے سخت الزامات کا تبادلہ ہوا۔

پینٹاگان نے کہا کہ چینی لڑاکا پائلٹ کا انداز نہایت جارحانہ اور غیر پیشہ وارانہ تھا، کیونکہ اُن کا طیارہ امریکی جہاز سے محض نو میٹر کے فاصلے پر سے گزرا۔ چین نے کہا ہے کہ سب سے پہلے تو، امریکہ کے طیارے کو اُس مقام پر نہیں ہونا چاہیئے تھا۔

یہ واقعہ متعدد حساس عنوانات میں سے ایک تھا جس پر منگل کے روز رائس کے دورے کے دوران بات ہوئی، جنھوں نے چین کے صدر ژی جِن پِنگ سے ملاقات کی۔

رائس نے مسٹر ژی کو بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما، جو نومبر میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں، چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کو خاصی اہمیت دیتے ہیں۔

رائس کے بقول، صدر اوباما چاہتے ہیں کہ امریکی چین تعلقات لازمی باہمی تعلقات ہیں، اور یہ کہ عالمی اہمیت کا کوئی بھی مسئلہ ہو وہ تب تک بہتر انداز سے حل نہیں ہوسکتا جب تک دونوں ممالک ایک ہی میز پر بیٹھ کر حل نہ کر سکیں۔

اپنے پبلک بیانات میں، صدر ژی نے، بقول اُن کے، ایک ’نیا ماڈل‘ پیش کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے دو طاقتوں کے درمیان تعلقات کس طرح کے ہونے چاہئیں۔

اس سے قبل، چین کے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ ملاقاتوں میں، رائس نے اس بات کو تسلیم کیا کہ امریکہ اور چین کو چیلنج درپیش ہیں۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں چاہیئے کہ وہ حربی نوعیت کے واقعات سے دور رہیں، جن کے باعث تعلقات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG