رسائی کے لنکس

چین گرین انرجی کی صنعت میں عالمی تجارتی قوانین کو ملحوظ رکھے: امریکہ

  • پیٹر سمپسن
  • جمیل اختر

توانائی کی پالیسی سے متعلق اعلیٰ امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ چین کو چاہیے کہ وہ امریکی کمپنیوں کو بھی متبادل توانائی کے پراجیکٹس کی اعانت کے لیے اہل قرار دے کیونکہ ایسی شکایات میں اضافہ ہورہاہے کہ چین ماحول دوست توانائی سے متعلق کمپنیوں کو دی جانے والی سبسیڈی میں عالمی تجارتی قوانین کی خلاف وزری کررہاہے۔

توانائی سے متعلق امریکی وزیر اسٹیون چو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ماحول دوست توانائی کی چینی کمپنیوں کا خیرمقدم کرتی ہے کیونکہ وہ امریکہ میں نئی ملازمتوں کی فراہمی میں مدد دیتی ہیں۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ چین کی ماحول دوست توانائی کی ترقی کرتی ہوئی صنعت میں امریکی کمپنیوں کو بھی کام کرنے کا لازماً کوئی موقع دیا جانا چاہیے۔ چین اپنی ماحول دوست توانائی کی کمپنیوں کو کئی طرح سے اعانت فراہم کررہاہے اور واشنگٹن چاہتا ہے کہ توانائی کے ماحول دوست ذرائع پر کام کرنے والی تمام کمپنیوں کو اس رعایت کا فائدہ ملنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں واشنگٹن میں یہ کہہ رہے ہیں یہ سبسیڈیز کام کرنے والی تمام کمپنیوں کے لیے یکساں ہونی چاہیں،اور ہمارا خیال ہے کہ چین اس سلسلے میں آگے بڑھے گا۔ ہم ان اصولوں پر ہی اپنے سلسلے کوآگے بڑھارہے ہیں۔

مسٹر چونے کہا کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ سبسیڈیز کے ذریعے دونوں ملکوں کو اپنی کاربن گیسوں کے اخراج کی سطح کم کرنے اور آلودگی اور عالمی حدت میں کمی لانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بیان بدھ کے روز بیجنگ میں چین کے توانائی کے عہدے داروں سے ملاقات کے بعد دیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ چین نے تجارت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں ، جس کی ایک مثال مقامی رضامندی کے حصول کا تقاضا ہے، جو مؤثر طورپرامریکی کمپنیوں کو چینی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی اعانت سے دور کردیتا ہے۔ کچھ امریکی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی سبسیڈیز کا مطلب یہ ہے کہ وہ ماحول دوست درآمدی چینی آلات کا مقامی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرسکتیں۔

چین کی وزارت تجارت اس دعوؤں کو مسترد کرتی ہے کہ وہ گرین ٹیکنالوجی کی اپنی صنعت کی غیر منصفانہ مدد کررہی ہے۔

امریکی محکمہ تجارت نے ستمبر میں یہ تحقیقات شروع کی تھیں کہ آیا چین دوبارہ قابل استعمال توانائی کی مقامی کمپنیوں کی مدد کرکے کہیں بین الاقوامی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کررہا۔

امریکی وزیر توانائی اسٹیون چو، شفاف توانائی کے ایک تحقیقی مرکز کے افتتاح کے لیے چین گئے ہوئے ہیں ۔ اس مرکز میں دونوں ملکوں سے تعلق رکھنے والے سائنس دان ماحول دوست ٹیکنالوجی کی تحقیق اور تخلیق پر کام کریں ۔ یہ مرکز پچھلے سال ہونے والے ایک معاہدے کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

مسٹر چو کا کہنا ہے کہ یہ مرکز دنیا بھر میں دونوں ملکوں کے تعاون سے قائم ہونے والے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔

XS
SM
MD
LG