رسائی کے لنکس

امریکی وزیر توانائی نے جوہری فضلے کو پلوٹونیئم میں تبدیل کرنے کے چینی منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کیا کہ جس سے جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔

چین اور امریکہ نے بیجنگ میں ایک مشترکہ نیوکلیئر سیفٹی سنٹر قائم کیا ہے جس کا مقصد جوہری مواد کے محفوظ طریقے سے استعمال کی تربیت اور جوہری تنصیبات پر دہشت گرد حملوں سے بچاؤ کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

امریکہ کے وزیر برائے توانائی ارنسٹ مونز اور چین کی جوہری ایجنسی کے سربراہ شو ڈاچی نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔

مونز نے امریکہ کے ساتھ کام کرنے اور جوہری تحفظ کے لیے اہم اقدام کرنے پر چینیوں کو سراہا لیکن انھوں نے جوہری فضلے کو پلوٹونیئم میں تبدیل کرنے کے چینی منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کیا کہ جس سے جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین نے بہت مضبوط اقدام کیے ہیں اور یہ سنٹر اس کے عزم کی ایک مثال ہے لیکن ان کے بقول پلوٹونیئم کے دوبارہ استعمال پر "ہم اپنے تحفظات سے دنیا بھر کو آگاہ کرتے رہے ہیں کہ اس سے پلوٹونیئم کا پھیلاؤ بھی ہوسکتا ہے۔"

چین کا موقف ہے کہ وہ پلوٹونیئم کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے منصوبے کو صرف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔

شو ڈاچی کا کہنا تھا کہ نیوکلیئر سیفٹی سنٹر جوہری تحفظ سے متعلق چین کے عزم کا عکاس ہے اور یہ چین کے جوہری تحفظ کی ٹیکنالوجی کے معیار میں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

مونز نے خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" کو بتایا کہ وہ چین کو خطے اور دنیا میں جوہری تحفظ کے ضمن میں ایک بڑا کردار ادا کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

چین کے صدر شی جنپنگ اور امریکہ کے صدر براک اوباما کے درمیان رواں ماہ جوہری تحفظ سے متعلق واشنگٹن میں ہونے والی کانفرنس میں ملاقات بھی متوقع ہے۔

XS
SM
MD
LG