رسائی کے لنکس

چینی عہدے دار کے مطابق صدر براک أوباما کی انتظامیہ کے تحت بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کا آغاز جوش وخروش سے ہوا لیکن بعد ازاں اس میں کمی ہوئی۔

چین کے سینیر عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے مہینے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد چین اور امریکہ کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیزی سے کام کریں گے۔

ایشیا کے لیے نائب چینی سفیرژنگ سونگ نے منگل کے روز ہمسایہ ملک پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں سب سے ہم دوطرفہ تعلق چین اور امریکہ کا تعلق ہے اور چین امریکہ کے ساتھ تعلقات کی اس موجودہ سطح کی بنیاد پر ترقی دینے کے لیے تیار ہے۔

تاہم مسٹر ٹرمپ نے دسمبر کے شروع میں تائیوان کی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کر کے بیجنگ کے ساتھ ایک سیاسی تنازع پہلے ہی کھڑا کر دیا ہے، جس پر چین نے بیجنگ میں امریکی سفیر کے پاس اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

امریکہ نے 1979 میں تائیوان کے ساتھ اپنا تعلق توڑ کر چین کو تسلیم کر لیا تھا۔ چین، تائیوان کو ، جہاں جمہوری طرز حکومت ہے، اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس پر اپنا قبضہ بحال کرنے کے لیے فوجی قوت استعمال کر سکتا ہے۔

ژنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکہ کے بہتر تعلقات ایشیا بحرالکاہل کے خطے اور دنیا کے لیے بہت اہم ہیں۔

انہوں نے کہا جب امریکہ کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانے کامعاملہ ہو تو ہمارے بھی کچھ أصول ہیں۔اور ہم بین الاقوامی اصولوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے بنیادی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ صدر براک أوباما کی انتظامیہ کے تحت بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کا آغاز جوش وخروش سے ہوا لیکن بعد ازاں اس میں کمی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ براک أوباما ایک ایسے امریکی صدر ہیں جنہوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی سال چین کا دورہ کیا تھا۔

انہوں نے چین کو پیش آنے والی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے أوباما سے پہلے کے أدوار کا ذکر کیا اور کہا کہ اپنا عہدہ سنبھالے کے ابتدائی برسوں میں امریکی صدور نے تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے یا دلائی لامہ سے ملنے کی کوشش کی، جن کی حیثیت چین کے لیے سرخ لکیر کی ہے۔

چین نوبیل انعام یافتہ بودھ راہنما دلائی لامہ کو ایک علیحدگی پسند سمجھتا ہےاور دلائی لامہ تبت میں چین کی پالیسیوں پر کھلم کھلا نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ وہ ایک درمیانی راستے کے حق میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ چین سے تبت کی آزادی نہیں چاہتے بلکہ اس کی بجائے چین کے اندر ایک زیادہ خود مختار تبت کے خواہش مند ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG