رسائی کے لنکس

آزادانہ عالمی تجارتی معاہدے پر امریکہ اور چین میں پیش رفت


صدر اوباما اپنے چینی ہم منصب ژی جنپنگ کے ساتھ
صدر اوباما اپنے چینی ہم منصب ژی جنپنگ کے ساتھ

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ اور چین "اس مفاہمت تک پہنچے ہیں" جس سے ڈبلیو ٹی او کے انفارمیشن ٹیکنالوجی معاہدے کو بڑھانے پر وسیع بات چیت کا راستہ کھلے گا۔

امریکہ اور چین کے درمیان بات چیت میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن معاہدے سے متعلق ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے تحت اعلیٰ ٹیکنالوجی والی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔

اس معاہدے کا اعلان بیجنگ میں امریکی صدر براک اوباما نے کیا جنہوں نے منگل کو علاقائی اقتصادی کانفرنس کے اختتام پر چین کے اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ اور چین "اس مفاہمت تک پہنچے ہیں" جس سے ڈبلیو ٹی او کے انفارمیشن ٹیکنالوجی معاہدے کو بڑھانے پر مزید بات چیت کا راستہ کھلے گا۔

اس معاہدے میں شامل کی جانے والی مصنوعات پر چین اور امریکہ کے اختلافات کی وجہ سے یہ مذاکرات گزشتہ سال نومبر میں معطل ہو گئے تھے۔

امریکی نمائندہ برائے تجارت مائیکل فورمین کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اب یہ بات چیت باضابطہ طور پر آئندہ ماہ ہو گی۔

بیان کے مطابق معاہدے میں جن اشیاء کی قیمتوں پر ڈیوٹی ختم کرنے کی بات چیت ہو گی ان میں طبی ساز و سامان، وڈیو گیمز کے آلات، کمپیوٹر سافٹ ویئر اور جدید ترین سیمی کنڈکٹرز شامل ہوں گے۔

یہ معاہدہ 1997 سے نافذ العمل ہے اور اس کے تحت اس میں شامل ممالک کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم کرنے کے لیے متفق ہونا ضروری ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری سے وقوع پذیر ہوتی نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس فہرست میں اشیاء کا اضافہ کیا جانا چاہیئے۔

بیجنگ میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اقتصادی کانفرنس میں آزادانہ تجارت کے معاہدے اہم موضوع رہے۔

اس کانفرنس میں صدر اوباما امریکہ کی زیر قیادت ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ ٹریڈ زون کے منصوبے پر حمایت حاصل کرنے میں کوشاں نظر آئے۔ یہ منصوبہ اس بنا پر متنازع چلا آ رہا ہے کیونکہ اس میں چین شامل نہیں اور یہ ایشیا میں آزاد تجارت کے بیجنگ کے معاہدے سے مسابقت رکھتا ہے۔

XS
SM
MD
LG