رسائی کے لنکس

چین: ویتنامی کشتی پر فائرنگ کا دفاع


چینی حکومت کے ترجمان ہانگ لی کا کہنا ہے کہ چینی پانیوں میں ویتنامی کشتی غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث تھی اور چین نے اس کے خلاف ’مناسب‘ اور ’معقول‘ اقدام اٹھایا ہے۔

چین نے جنوبی چینی سمندر کے متنازعہ علاقے میں ویتنامی کشتی پر گولیاں چلانے کا دفاع کیا ہے۔ دوسری جانب ہنوئی نے بیجنگ پر جہاز کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔

چینی حکومت کے ترجمان ہانگ لی کا کہنا ہے کہ چینی پانیوں میں ویتنامی کشتی غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث تھی اور چین نے اس کے خلاف ’مناسب‘ اور ’معقول‘ اقدام اٹھایا۔

ہانگ لی نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے میں کشتی تباہ نہیں ہوئی تھی۔ ان کے الفاظ، ’’چین کی جانب سے غیر قانونی ویتنامی کشتی پر ’مناسب‘ اور ’معقول‘ اقدام اٹھایا گیا۔ اس وقت ویتنام کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ متعلقہ کشتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ویتنام اپنے مچھیروں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے گا تاکہ وہ اس طرح کی کسی غیر قانونی کارراوئی میں ملوث نہ ہوں۔‘‘

ویتنام نے پیر کے روز کہا تھا کہ چین نے متنازعہ پیراسیل جزیرے کے مقام پر ویتنام کی کشتی پر گولیاں چلائیں جس سے کشتی کو آگ لگ گئی۔ ویتنامی وزیر ِ خارجہ نے اس حملے کو ’بہت سنجیدہ نوعیت‘ کا حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ویتنام کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔

ویتنام نے چین سے اس واقعے کی چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔

پیراسیل جزیرے چین کے قبضے میں ہیں لیکن ویتنام اس متنازعہ علاقے پر اپنا حق جتاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG