رسائی کے لنکس

جنوبی چین کے ایک دیہی علاقے کے دوسابق عہدے داروں کو ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کرپشن اور پچھلے سال غیر منصفانہ طریقے سے زمینوں کو سرکاری تحویل میں لینے کے مبینہ الزامات کےبعد بڑے پیمانے کے ہونے والے مظاہروں کے بعد حکمران کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے سنہوا نے کہا ہے کہ گوانگ ڈونگ صوبے کے علاقے ووکان کے حکمران جماعت کے سابق لیڈر سو چانگ اور دیہی کمیٹی کے عہدے دار چن شونی کو غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ ہزاروں ڈالر وں کی واپسی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

ووکان نے چھ اور سابق عہدے داروں کو بھی سزائیں دی گئی ہیں۔

گذشتہ سال ستمبر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دوکان میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کاسلسلہ شروع ہواتھا۔اور مقامی آبادی کے برہم افراد نے یہ الزام لگایا تھا کہ ان کی زمینیں غیر منصفانہ طریقے سے سرکاری تحویل میں لی جارہی ہیں۔

مظاہروں کا سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا اور پولیس کی حراست میں ایک احتجاجی راہنما کی ہلاکت کے بعد مظاہرے پرتشدد ہوگئے تھے۔

مقامی لیڈر کی ہلاکت کے بعد مقامی افراد نے علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور پارٹی کے عہدے داروں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے علاقے کو اپنے محاصرے میں لے لیا تھا۔

علاقے کے مکینوں نے مارچ میں مقامی کونسل کے نئے عہدے داروں کا چناؤ کیاتھا ، جس سے کئی اصلاح پسندوں کو یہ توقع پیدا ہوا ہوئی ہے کہ ایک پارٹی کے نظام کے اندر رہتے ہوئے مزید جمہوری اصلاحات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG