رسائی کے لنکس

یوان کی قدر میں کمی سے دوسرے ممالک کے لیے چین کی برآمدات سستی ہو جائیں گی۔

چین کے مرکزی بینک نے منگل کو اپنی کرنسی کی قدر کم کر دی ہے جس کے بارے میں بینک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک ہی بار کے لیے ہے اور اس کا مقصد کرنسی کے تبادلے کی شرح کو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے تحت کرنا ہے۔

چین کے پیپلز بینک (پی بی او سی) نے ایک مرکزی پوائنٹ سے دو فیصد اوپر یا نیچے روزانہ کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ کی اجازت دی ہے اور یہ پوائنٹ روزانہ کی بنیاد پر پی بی او سی کی طرف سے مقرر کیا جائے گا۔

پی بی او سی نے اس تبدیلی کے نتیجے میں کرنسی کے مرکزی ریٹ کو 1.9 فیصد تک کم کر دیا ہے جس کے بارے میں بینک کا کہنا ہے کہ یہ مارکیٹ کے طلب و رسد اور مرکزی مطابقت کے معیار کو آگے بڑھائے گا۔

پی بی او سی نے کہا کہ (کرنسی کا) مرکزی پوائنٹ گزشتہ روز کے اختتام دن کی قیمت کا مظہر ہو گا جو کہ" غیر ملکی کرنسی کی مارکیٹ میں طلب اور رسد کی بنیاد پر اور بڑی کرنسیوں کی شرح تبادلہ میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق ہو گا"۔

یوان کی قدر میں کمی سے دوسرے ممالک کے لیے چین کی برآمدات سستی ہو جائیں گی۔ منگل کو ہونے والا فیصلہ اس بات کے اعلان کے بعد سامنے آیا کہ جولائی میں ہونے والی برآمدات گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 8 فیصد کم تھیں۔

اس سے قبل اس سال عالمی مالیاتی ادارے 'آئی ایم ایف' نے کہا کہ حال ہی میں چین کی کرنسی کی قدر میں اضافے کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ چین کی کرنسی کی قدر کو مصنوعی طریقے سے کم نہیں رکھا گیا ہے تاہم (آئی ایم ایف) نے حکومت پر زور دیا کہ کرنسی کے شرح مبادلہ پر کنٹرول کو کم کرنے کے عمل کو تیز کرے۔

یوان کی شرح قدر میں چین کے بڑے تجارتی شراکت داروں خاص طور پر امریکہ کی کرنسیوں کے مقابلے میں اضافہ ہوا تھا اور گزشتہ کئی سالوں سے اس پر گرما گرم بحث ہوتی رہی۔ امریکہ کی طرف سے چین پر برآمدات میں اضافے کے لیے یوان کی قدر کم رکھنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے جبکہ چین اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG