رسائی کے لنکس

چین اور افریقہ کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط ہیں اور ایک اندازے کے مطابق گذشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان دو سو ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اس تجارت کا زیادہ فائدہ چین کو پہنچتا ہے۔

ایک عرصے سے افریقہ میں چینی سرگرمیاں تنقید کا ہدف بنائی جاتی ہیں۔ خطہ ِ افریقہ میں متنازعہ لیڈروں کو چین کی حمایت اور وہاں پر جاری دیگر مسائل کے حوالے سے چینی رد ِ عمل کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔


ایسے میں چینی صدر ژی چن پنگ کا حالیہ دورہ ِ افریقہ اور دو ٹوک الفاظ میں یہ پیغام کہ چین اور افریقہ برابر ہیں، خوش دلی سے وصول کیا گیا۔ چینی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیجنگ افریقہ کی مدد مستقبل میں بھی جاری رکھے گا۔

یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے پروفیسر ایڈمز بوڈومو کا کہنا ہے کہ صدر ژی چن پنگ نے تعلقات کو مثبت اور بہتر سمت کی طرف موڑنے کے لیے قدم بڑھایا ہے۔

پروفیسر ایڈمز بوڈومو کے الفاظ، ’’بھائی چارہ، خودمختاری اور ہم آپ کی سلامتی اور اقتدارِ اعلیٰ کی تکریم کرتے ہیں وغیرہ جیسے الفاظ افریقہ کے لیے بہت معنی رکھتے ہیں اور بہت اہم ہیں۔ جبکہ دیگر بہت سے ملک کے سربراہان جب افریقہ آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ افریقہ کو یہ کرنا چاہیئے اور وہ کرنا چاہیئے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ افریقہ پر اپنی مرضی ٹھونس رہے ہیں۔ چینی صدر نے افریقہ میں وہ زبان استعمال کی جس سے افریقہ کو احساس ہوا کہ چینی صدر انہیں برابری کی سطح پر رکھتے ہیں اور افریقی یہی سننا چاہتے تھے۔‘‘

چین اور افریقہ کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط ہیں اور ایک اندازے کے مطابق گذشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان دو سو ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اس تجارت کا زیادہ فائدہ چین کو پہنچتا ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں نائجیریا کے سنٹرل بنک کے گورنر نے تنبیہہ کی تھی کہ، ’’افریقی ممالک چین کی طرف دیکھنا بند کریں اور یہ جان لیں کہ چین ان کا ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ انکا حریف بھی ہے۔‘‘

چین کے صدر ژی چن پنگ یہ حقیقت جانتے ہیں اور تنزانیہ میں افریقی پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کے الفاظ، ’’چین نے ہمیشہ افریقہ کو اپنی مدد اور حمایت فراہم کرنے کی بات کی ہے۔ خاص طور پر حالیہ برسوں میں، چین نے افریقہ کے ساتھ اپنے تعاون کی کوششوں کو وسعت دی ہے۔ اور چین آئندہ بھی سختی سے اس تعلق کو برقرار رکھنے کی کاوش کرتا رہے گا۔‘‘

چینی صدر کے دورے کے دوران چین نے ہزاروں افریقی عوام کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے اور افریقی طالبعلموں کے لیے چینی سکالر شپس دینے کی پیشکش بھی کی۔
XS
SM
MD
LG