رسائی کے لنکس

امریکہ میں قائم چین کی یغور تنظیم نے کہا ہے کہ شین جیانگ کے شمال مغربی شورش زدہ علاقے میں اس ہفتے رونما ہونے والے لاقانونیت کے واقعات نسلی اقلیتوں کے خلاف چین کی ظالمانہ پالیسوں کا نتیجہ ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے اکثریتی نسلی یغور علاقے میں منگل کے روز عام شہریوں پر چاقوؤں کے حملوں کا الزام علیحدگی پسندوں اور تشدد پسند دہشت گردوں پر لگایا تھا۔

تشدد کے ان واقعات میں حکومت کے مطابق کم ازکم 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں چینی پولیس کے سات اہل کار اور نو حملہ آور بھی شامل ہیں۔

لیکن امریکن یغور ایسوسی ایشن کے صدر عالم سیٹاف نے چینی حکومت کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لاقانونیت کے واقعات دہشت گردی نہیں تھے بلکہ وہ نسلی اقلیتوں کے خلاف چین کی ظالمانہ پکڑ دھکڑ کا نتیجہ تھے۔

ان کا کہناتھا کہ بلوؤں کے انسداد سے متعلق چین کے دستے عمومی طورپر سخت گیر ہیں ۔ وہ 2009ء کی شورش کے بعد سے یغور باشندوں کو مارپیٹ رہے ہیں اور انہیں حراست میں لینے کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

2009ء کے فسادات میں علاقائی صدر مقام ارمچی میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG