رسائی کے لنکس

سنکیانگ میں خون ریز فسادات کی پہلی برسی پر سخت سیکیورٹی

  • پیٹرسمپسن

ارومچی میں مسلح چینی پولیس گشت کے دوران

ارومچی میں مسلح چینی پولیس گشت کے دوران

سنکیانگ میں چینی تاریخ کے کئی عشروں کے بدترین نسلی فسادات کی پہلی برسی کے موقع پر صوبے کے مغربی حصوں میں پویس کے نیم فوجی دستے پوری طرح چوکس ہیں ۔ چین کے دوسرے شہروں میں بھی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

پیراملڑی پولیس کے پاس ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے ڈھالیں اور مشین گنیں ہیں اورپیر کے روز وہ چینی صوبے سنکیانگ کے شہروں میں گشت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایک سال قبل نسلی اکثریت ہان اور اقلیت یغور کے درمیان پھوٹ پڑنے والے فسادات سے صوبائی دارلحکومت اورومچی کی سڑکیں اور گلیاں خون سے لت پت ہوگئی تھیں۔یہ چین میں کئی عشروں میں رونما ہونے والےبدترین نسلی فسادات تھے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان فسادات میں 197 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر ہان تھے اور زخمیوں کی تعداد 1700 کے لگ بھگ تھی۔ بیرون ملک مقیم یغور باشندوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ تھی اور ہلاکتیں بھی زیادہ تر یغور باشندوں کی ہوئی تھیں۔یغوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نسلی اعتبار سے وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ترک ہیں۔

الہام توحتی ایک دانش ور اور کاروباری امور کے ماہر ہیں۔ انہوں نے ان دونوں کاروباری کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے چین میں ایک ویب سائٹ قائم کی تھی ، لیکن پچھلے سال بلوؤں کے بعد ان کی ویب سائٹ بند کردی گئی اور وہ ایک مہینے تک جیل میں رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یغور اور ہان نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے مقدر ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بے چینی کی وجہ ایک دوسرے کی ثقافت کے بارے میں عدم واقفیت ہے۔

توحتی کہتے ہیں کہ اس علاقے میں صوبے سے باہر کے چینی عہدے داروں کے منصوبوں کے نتیجے میں جو تیزی سے تبدیلی آئی ، اس سے اکثر یغور خود کو الگ تھلگ اور تنہا محسوس کرنے لگے۔

گذشتہ کئی برسوں سے چین سنکیانگ میں معاشی ترقی کے لیے ایک مخصوص پالیسی پر عمل کررہاہے اور حکومت ہان نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کی قدرتی وسائل سے مالامال علاقوں میں آبادکاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

حکومت کی اس پالیسی نے علاقے کے60 لاکھ قدیم یغور باسیوں کو متفکر کردیا ہے، جو اب سنکیانگ میں ایک اقلیت بن چکے ہیں۔ اکثر یغور یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان پر روز گار کے دروازے بند ہیں اور یہ کہ حکومت ان کے مذہبی فرائص کی ادائیگی میں رکاوٹیں ڈالتی ہے۔ یغور زیادہ تر مسلمان ہیں۔

حکومت ان الزامات سے انکار کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یغور اور دوسری نسلی اقلتیوں کو سرکاری پالیسوں سے فائدہ ہورہا ہے ، جس کی ایک مثال ایک زیادہ بچے کی پیدائش پر پابندی سے استثنیٰ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پچھلے سال کے بلوے ان لوگوں نے کیے تھے جو علاقے میں ایک آزاد مملکت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ہنگاموں کی پہلی برسی کے موقع پر سنکیانگ میں کشیدگی ہےمگر حالات سکون ہیں۔

چین کے بعض سرکاری میڈیا چینل ، اس برسی کی کوریج کررہے ہیں ، تاہم خبروں سے متعلق زیادہ تر ادارے پچھلے سال کی گڑبڑ اور بے چینی کا الزام بیرونی قوتوں پر لگاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG