رسائی کے لنکس

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان، چِن گانگ نے پیر کے روز کہا کہ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئ تقریر کی آڈیو رپورٹ سے اس تنظیم کی دہشت گرد ہونے کا ثبوت ملتا ہے اور اس سے تیانمن اسکوائر میں وقوع پذیر ہونے والےواقعے کے بارے میں حقائق واضح ہوتے ہیں

گذشتہ ماہ تیانمن چوک پر ہونے والے ہلاکت خیز واقع کے پیشِ نظر، چین نے انسداد دہشت گردی کے ضمن میں مزید بین الاقوا می تعاون پر زور دیا ہے۔

سائٹ مانیٹرنگ سروس، (http://news.siteintelgroup.com/)جو شدت پسند اسلامی تنظیموں پر نگاہ رکھتی ہے، کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے آخر میں ترکستان اسلامی پارٹی نے ایک تقریر کا آڈیو پوسٹ کیا ہے، جس میں مبینہ طور پر پارٹی کے لیڈر، عبد اللہ منصور نے چین کے خلاف مزید حملوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اِس معاملے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے، وزارتِ خارجہ کے ترجمان، چِن گانگ نے پیر کے روز کہا کہ تقریر سے اس تنظیم کی دہشت گرد نوعیت کا ثبوت ملتا ہے اور اس سے تیانمن اسکوائر میں وقوع پذیر ہونے والےواقعے کے بارے میں حقائق کو واضح ہوتا ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ترکستان اسلامی پارٹی‘ دراصل ’مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (اِی ٹی آئی ایم)‘ ہے، جس پر چین نے اس واقعے کا الزام لگایا ہے۔

گذشتہ ماہ، جب چین کے ژنزیانگ کے خودمختار مغربی خطے کی یغور اقلیت سے تعلق رکھنے والے تین افراد نے ممنوعہ شہر کے داخلی راستے پر بارود سے لدی موٹر گاڑہ ٹکرادی، جس کے باعث اُس میں آگ لگ گئی، جس میں شدت پسندوں کے علاوہ دو راہگیر ہلاک ہوگئے۔

چین نے حالیہ برسوں کے دوران ژنزیانگ میں حکومتی اہداف پر ہونے والے حملوں کے سلسلے کا الزام مشرقی ترکستان اسلامی تحریک پر لگایا ہے۔

یغور نسل کے گروہوں کا کہنا ہے کہ یغور اقلیت کے خلاف روا رکھی جانے والی پالیسیوں کو درست قرار دینے کی غرض سے، چین اس تحریک کے خلاف مبالغہ آمیزی سے کام لے رہا ہے، جب کہ چند لوگ حکومت پر مذہب اسلام اور ثقافت کے خلاف امتیاز برتنے کے بارے میں شکایت بھی کرتے آئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG