رسائی کے لنکس

چینی صنعت کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش

  • ب

نائب چینی وزیرخارجہ نے صدر زرداری کا بیجنگ پہنچنے پر استقبال کیا

نائب چینی وزیرخارجہ نے صدر زرداری کا بیجنگ پہنچنے پر استقبال کیا

صدر آصف علی زرداری نے بدھ کے روز چین میں صنعت کاروں سے ایک ملاقات میں ان کو پاکستان میں خصوصاً توانائی کی پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ ملاقات میں دفاع اور بنکاری سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک تھیں۔

پاکستانی صدارتی ترجمان کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت ملک میں جاری توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے پانی، کوئلے، گیس، جوہری اور دوسرے ذریعوں سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

صدر زرداری منگل کو چھ روز ہ سرکاری دورے پر چین پہنچے تھے اور بدھ کی شب ان کی اپنے چینی ہم منصب ہو جن تاؤ سے ملاقات متوقع ہے۔

پاکستانی سرکاری خبر رساں ادارے ”اے پی پی “ کے مطابق دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کے مابین ملاقات میں پا ک چین سویلین جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون میں پیش رفت کی توقع ہے۔ صدرات کا منصب سنبھالنے کے بعد صدر آصف علی زرداری کا چین کا یہ پانچواں دورہ ہے ۔

چین کے تعاون سے پاکستان میں چشمہ ون کے نام سے ایک جوہری ری ایکٹرقائم ہے جب کہ اس علاقے میں چشمہ ٹو نامی دوسرا ری ایکٹر تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے شدید بحران پر قابوپانے کے لیے چین نے پاکستان میں دو مزید جوہری ری ایکٹر قائم کرنے کا عزم بھی کر رکھا ہے۔

چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سویلین جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون شفاف اور جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی یعنی آئی اے ای اے کے وضع کردہ دائرہ کار اور قوانین کے عین مطابق ہے۔

چین پاکستان میں مختلف شعبوں میں 120 مختلف منصوبوں پر کام کر رہاہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور پاکستان میں تقریباً13ہزار چینی کام کر رہے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اور چین کی دوطرفہ تجارت کا حجم جو 2002ء میں دو ارب ڈالر تھا اب سات ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر زردای کے اس دورے کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور چین کے مابین تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ان دنوں چین کے صوبے نینشا میں پاکستانی اور چینی فوجیوں کی مشترکہ مشقیں بھی جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG