رسائی کے لنکس

2015 میں چین کی اقتصادی ترقی 25 برسوں میں سب سے کم


بیجنگ میں پیپلز بینک آف چائنا کی عمارت

بیجنگ میں پیپلز بینک آف چائنا کی عمارت

منگل کو قومی بیورو برائے شماریات کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 1990 میں جب 3.8 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی تھی اس وقت کے بعد 2015 میں سست ترین شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

گزشتہ سال چین کی معیشت کی شرح نمو 6.9 فیصد تھی جو 25 سال میں ایشیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت کی سب سے سست شرح نمو تھی۔

منگل کو قومی بیورو برائے شماریات کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 1990 میں جب 3.8 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی تھی اس وقت کے بعد 2015 میں سست ترین شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

1989 میں چین کی طرف سے جہوریت نواز مظاہرین کے خلاف تیاننمن سکوائر میں کارروائی کے نتیجے میں اس پر سخت عالمی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں جس سے اس کی معیشت کو نقصان پہنچا تھا۔

اقتصادی ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ 2016 میں چین کی اقتصادی نمو سستی کا شکار رہے گی۔

سال کے آخر میں جاری ہونے اعداد و شمار پالیسی سازوں کی طرف سے 2015 کے لیے مقرر کیے گئے سات فیصد کے ہدف سے صرف اعشاریہ ایک فیصد کم ہیں۔ چین اپنی معیشت کو سرمایہ کاری اور برآمدات کی بجائے صارفین کی مانگ پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد منگل کی دوپہر شنگھائی، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا میں منڈیوں نے معمولی کاروبار کیا۔

XS
SM
MD
LG