رسائی کے لنکس

چین: سسنرشپ کے خلاف احتجاج پر سخت سزائیں


فائل

فائل

یہ احتجاج جس میں تینوں کارکنوں نے حصہ لیا تھا 2013ء میں ایک جنوبی ہفتہ روزہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر پرامن طور پر کیا گیا تھا، جس میں بیجنگ حکومت سے سنسر شپ اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا، کیونکہ اس کی وجہ سے اخبارات متاثر ہو رہے تھے

چین نے انسانی حقوق کے تین سرگرم کارکنوں کو 2013ء میں اخبارات میں سنسر شپ کے خلاف احتجاج پر سخت قید کی سزا سنا دی ہے۔

تینوں کارکنوں کے وکیل زہنگ لی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس فیصلے پر انھیں حیرت ہے اور صدمہ پہنچا ہے، جس کے تحت گوآوٓ فیکسونگ کو 6 برس قید کی سزا دی گئی ہے۔ ذوہنگ نے بتایا کہ عدالت نے جمعے کو سماعت شروع کرنے سے پہلے ان کے موکل کے خلاف ایک اضافی فرد جرم بھی عائد کی۔

بقول زہنگ لی کے، ’عدالت نے یکطرفہ طور پر میرے مؤکل پر ایک نیا مجرمانہ فرد جرم عائد کیا جس کی سماعت نہیں ہوسکی۔ یہ حیران کن اور خوفناک امر ہے‘۔

بقیہ دو کارکنوں یونڈونگ اور سن ڈیشنگ کو احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے الزام میں بالترتیب تین سال اور ڈھائی سال قید کی سزا ہوئی۔ تینوں پر معمولات زندگی کو متاثر کرنے کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کا الزام ہے، جبکہ گووٓ پر لوگوں کو اشتعال دلا کر امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرنے کی سازش کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ عمومی طور پر، یہ دونوں الزامات اختلاف رائے رکھنے والوں پر عائد کئے جاتے ہیں۔

یہ احتجاج جس میں تینوں کارکنوں نے حصہ لیا تھا 2013ءمیں ایک جنوبی ہفتہ روزہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر پرامن طور پر کیا گیا تھا جس میں بیجنگ حکومت سے سنسر شپ اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا، کیونکہ اس کی وجہ سے اخبارات متاثر ہو رہے تھے۔

زہنگ نے اپنے تینوں مؤکلوں کی جانب سے اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے اور گووٓ کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی گرفتاری کے بعد سے حالت ٹھیک نہیں۔ انھیں بہت زیادہ لوگوں کے ساتھ سیل میں رکھا گیا ہے اور ورزش کے لئے باہر نہیں جانے دیا جاتا جو کہ قیدیوں کے عالمی معیار کے منافی ہے۔

وکیل زہنگ کے مطابق، ان کے مؤکل کی دیکھ بھال صحیح نہیں کی جا رہی۔ انھوں نے پولیس افسران پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے ساتھ ایسا رویہ رکھ رہے ہیں کہ جس سے انکے بازو زخمی ہوگئے۔

انسانی حقوق کی تنظیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سن ڈیشنگ کو طویل عرصے سے زبردستی ہتھکڑی پہنا کر اور پاؤں میں زنجیریں ڈال کر رکھا گیا ہے، جبکہ ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بھی چینی حکومت سے تینوں کارکنوں کے خلاف عائد الزامات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG