رسائی کے لنکس

چین کو انتہائی مطلوب ملزمہ کی امریکہ میں سیاسی پناہ کی کوشش


یانگ شیوزو (فائل فوٹو)

یانگ شیوزو (فائل فوٹو)

چین اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا رسمی معاہدہ موجود نہیں ہے تاہم امریکہ کا ایک موقر اخبار 'وال سٹریٹ جرنل' یانگ کے مقدمے کو "دونوں ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تازہ ترین تعاون کا مظہر قرار دے رہا ہے"۔

چین کو مبینہ مالیاتی بدعنوانی میں ملوث انتہائی مطلوب مفرور یانگ شیوزو کی نیویارک میں امریکہ کی امیگریشن عدالت میں ملک بدری کے لیے پہلی سماعت ہوئی۔

یانگ کے وکیل نے بلواسطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ وہ سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتی ہیں اور ان کی عدالتی دستاویزات بھی اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ان کا مقدمہ ملک بدری کی بجائے سیاسی پناہ کا مقدمہ بن گیا ہے۔

یانگ کی طرف سے ان کی رازداری سے دستبرداری کی درخواست کے بعد عدالت میں 30 منٹ تک جاری رہنے والی سماعت بند کمرے میں ہوئی۔

یانگ شہر کے مرکزی علاقے مین ہیٹن میں واقع غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق عدالتی کمرے میں داخل ہوئیں۔ ان کے وکیل کوزمنگ کے وہاں پہنچنے پر جب وائس آف امریکہ نے ان سے پوچھا کہ آیا یانگ چین "واپس بھیجے جانے سے نجات" چاہتی ہیں یا وہ ملک بدری کی بجائے سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ "مجھے ایسا ہی لگتا ہے"۔

عدالت میں سماعت کے بعد یانگ کو نیوجرسی کے ہڈسن کاؤنٹی کے بحالی کے مرکز میں واپس لے جایا گیا جہاں وہ گزشتہ سال سے بند ہیں۔

عدالت کے ریکارڈ کے مطابق جج تھامس ملیگان نے منگل کو یانگ کے مقدمے سمیت ان 10 مقدمات کی سماعت کی جن پر "فوری" اور "صرف سیاسی پناہ" کے نوٹ درج تھے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے امیگریشن اور کسٹم کے نفاذ کے ادارے نے گزشتہ سال یانگ پر"ویزا چھوٹ پروگرام کی خلاف ورزی کا الزام "عائد کرتے ہوئے امیگریشن کی عدالت سے انہیں ملک بدر کرنے کی درخواست کی تھی۔

یانگ نے مبینہ طور پر چار کروڑ ڈالر خرد برد کیے تھے جب وہ زی جانگ کے صوبے کے وینزو شہر کی نائب میئر اور تعمیرات کی بیورو کی عہدیدار تھیں۔

چین کے سرکاری میڈیا میں شائع شدہ رپورٹوں کے مطابق حکام نے گزشتہ سال یانگ کے سفر کے منصوبے کے متعلق حاصل کی گئی معلومات کے بارے میں امریکی کسٹم عہدیداروں کو آگاہ کیا تھا۔ یانگ کو گزشتہ سال جون میں اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ ڈچ جعلی پاسپورٹ پر کینیڈا سے امریکہ داخل ہو رہی تھیں تاہم امریکی حکام نے ان کو حراست میں لیے جانے کی صحیح وجوہات کی تفصیل جاری نہیں کی۔

چین اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا رسمی معاہدہ موجود نہیں ہے تاہم امریکہ کا ایک موقر اخبار 'وال سٹریٹ جرنل' یانگ کے مقدمے کو "دونوں ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تازہ ترین تعاون کا مظہر قرار دے رہا ہے" ۔

چینی حکومت نے اپریل میں یانگ کو ان 100 افراد کی فہرست میں شامل کیا جو مالیاتی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔

XS
SM
MD
LG