رسائی کے لنکس

چھ چینی باشندوں پر حقوق دانش کی چوری کا الزام عائد


فائل

فائل

محکمہٴانصاف کےعائد کردہ الزامات میں کہا گیا ہے کہ یہ چینی باشندے امریکی ٹیکنالوجی اور خفیہ تجارتی معلومات چینی حکومت کی ماتحت یونیورسٹیز کو فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں

امریکی محکمہٴانصاف نے چھ چینی باشندوں کے خلاف معاشی مخبری اور تجارتی خفیہ معلومات چرانے کے الزامات عائد کردئے ہیں۔

محکمہ انصاف کے عائد کردہ الزامات میں کہا گیا ہے کہ یہ چینی باشندے امریکی ٹیکنالوجی اورخفیہ تجارتی معلومات چینی حکومت کی ماتحت یونیورسٹیز کو فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

امریکی حکام نے منگل کو یہاں واشنگٹن میں گزشتہ ماہ عائد کئے جانے والے فرد جرم کو سامنے لاتے ہوئے، الزامات کا اعلان کیا۔ امریکی حکام کی قید میں موجود ہاؤزونگ، اس کا انجنیئر وائی پنگ اور چار دیگر انجنیئرز اور پروفیسر سمیت تمام چینی مدعا علیان دو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اسکائی ورکس سلوشن اور ایواگو ٹیکنالوجی سے ٹیکنالوجی چراتے رہے ہیں۔

ایف بی آے آر ایس کے نام سے موسوم امریکی کمپنی ریڈیو فریکوینسی فیلٹر بناتی ہے، جو موبائل فون میں آنے اور جانے والی کالز اور وائرلیس سگنل کو فیلڑ کرتی ہے۔

پنگ اور زونگ نے دو ہزار پانچ میں کیلی فورنیا کی یونیوسٹی سے الیکٹریکل انجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی جس کے بعد انھوں نے ایواگو اور اسکائی ورکس میں کام شروع کردیا تھا، پیش کردہ چالان کے مطابق 2006ء تا 2007ء دو امریکن چینی زیر تربیت انجنیئروں نے اپنے دو دیگر سازشیوں کے ساتھ مل کر چینی یونیورسٹی اور کمپنیوں سے رابطہ کیا، اور انھیں چین میں ایف بی آے آر ایس چیپس بنانے کے تجویز پیش کی۔

سنہ 2008 میں انھوں نے تائین جین یونیورسٹی کے ساتھ مل کر ایف بی اے آر بنانے کی سہولت کے قیام کے لئے کام شروع کیا ساتھ ہی، انھوں نے ایواگو اور اسکائی ورکس میں بھی کام جاری رکھا۔ امریکی حکام کے مطابق ایک سال بعد انھوں نے مستعفی ہو کر کل وقتی پروفیسر شپ اختیار کرلی جس کے بعد ان کی چینی کمپنی نے بڑے پیمانے پر ایف بی آے آر ایس مصنوعات کی پیدوار شروع کردی۔

استغاثہ پانگ اور زہانگ کہ شناخت جیپنگ چین، ہوئی سوئی زہانگ، چونگ زہو گنگ اور دیگر کی صورت میں ہوئی ہے، جبکہ استغاثہ کی عمر 26 سال سے 41 برس کے درمیان ہے جو امریکی ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر سورسز کوڈ، پروسیسر، اعداد و شمار، ڈیزئن ،ڈھانچہ اور دیگر دستاویزات چرانےکے ملزم ہیں اور یہ معلومات چینی یونیوسٹیز کو فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل برائے قومی سلامتی جون کارلین کے مطابق استغاثہ نے معلومات تک اپنی رسائی کو حساس امریکی ٹیکنالوجی اور تجارتی معلومات کے غیر قانونی حصول اور انھیں چینی معشیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے انھیں فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔

XS
SM
MD
LG