رسائی کے لنکس

چینی جنرل کے بیٹے کی جانب سے الزامات کی تردید


لی تیانیی اپنے والد کے ہمراہ (فائل فوٹو)

لی تیانیی اپنے والد کے ہمراہ (فائل فوٹو)

سترہ سالہ لی تیانیی اُن پانچ افراد میں شامل ہے جن پر فروری میں بیجنگ کے ہوٹل میں ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

چین میں ایک با اثر فوجی جنرل کے جواں سال بیٹے نے جنسی زیادتی کے واقع میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 17 سالہ لی تیانیی اُن پانچ افراد میں شامل ہے جن پر فروری میں بیجنگ کے ہوٹل میں ایک خاتون کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

لی کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز بدھ کو بند کمرے میں ہوا، تاہم بیجنگ سے شائع ہونے والے دو اخبارات نے انٹرنیٹ پر جاری کردہ تفصیلات میں بتایا کہ ملزم کا کہنا تھا کہ وہ شراب کے نشے میں دھت تھا اور اُس کو مبینہ زیادتی کا کوئی علم نہیں۔

ملزم کی جانب سے الزامات کی تردید پر انٹرنیٹ پر تنقید کی جا رہی ہے۔

لی کے والد لی شوانگ جیانگ پیپلز لبریشن آرمی کے جنرل ہیں، اور وہ ٹیلی ویژن پروگراموں اور خصوصی تقریبات میں ملی نغمے پیش کرنے کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔

لی کی والدہ مینگ جی بھی پیپلز لبریشن آرمی سے منسلک مشہور گلوکارہ ہیں۔

لی کو 2011ء میں بھی اُس وقت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب بیجنگ میں گاڑیوں میں تصادم کے بعد اُس نے دوسری گاڑی میں موجود میاں بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کو مطلع کرنے پر وہاں موجود افراد کا تمسخر اڑایا۔

اس واقع پر لی کو ایک سال تک بچوں کے لیے مخصوص اصلاحی مرکز میں رہنے کی سزا سنائی گئی تھی، جب کہ اُس کے والد نے عوام سے معذرت بھی کی تھی۔
XS
SM
MD
LG