رسائی کے لنکس

برف توڑنے والی چینی مشین ’سنو ڈریگن‘ کے عملے نے جمعہ کو بتایا کہ برف کی ثقیل تہہ جم جانے کے باعث اب وہ پریشان ہیں کیا کہ اُن کی کشتی وہاں سے مزید آگے بڑھ سکے گی؟

براعظم انٹارکٹکا میں برف میں پھنسی روس کی تحقیقاتی کشتی پر سوار تمام 52 مسافروں کو جمعرات کو باحفاظت ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک دوسری کشتی پر منتقل کر دیا گیا۔

تاہم اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امدادی کاموں میں مصروف چین کی کشتی بھی برف میں پھنس گئی ہے۔

برف توڑنے والی چینی مشین ’سنو ڈریگن‘ کے عملے نے جمعہ کو بتایا کہ برف کی ثقیل تہہ جم جانے کے باعث اب وہ پریشان ہیں کیا کہ اُن کی کشتی وہاں سے مزید آگے بڑھ سکے گی یا نہیں۔

برف ہٹانے کے لیے چین کی کشتی کئی دن پہلے اس علاقے میں بھیجی گئی تھی جو وہاں پر کھڑی رہی اور اس کے اردگرد برف کی تہہ دبیز ہوتی گئی۔

آسٹریلیا کی سمندری تحفظ سے متعلق انتظامیہ نے ان اطلاعات پر برف ہٹانے والی اپنی کشتی کو بھی علاقے میں رکنے کے لیے کہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر چین کی کشتی کی مدد کی جا سکے۔

حکام کے مطابق چین کی کشتی کھلے پانی میں جانے کے لیے ہفتہ کی صبح پھر کوشش کر ے گی۔

ایم وی اکیڈیمک شوکالسکیے نامی تحقیقاتی کشتی ایک ہفتہ قبل برف میں پھنس گئی تھی جس پر عملے کے 22 افراد سمیت کل 74 افراد سوار تھے۔ کشتی کے ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا اور اس پر کئی ہفتوں کی رسد بھی موجود تھی۔

توقع ہے کہ عملے کے 22 افراد کشتی ہی میں رہ کر برف کے قدرتی طور پر پگھلنے کا انتظار کریں گے۔
XS
SM
MD
LG