رسائی کے لنکس

امریکہ میں چینی سرمایہ کاری


امریکہ میں چینی سرمایہ کاری

امریکہ میں چینی سرمایہ کاری

چین کے نائب وزیرِ اعظم وانگ قشان اور تقریبا 100 ممتاز چینی تاجر اور کاروباری شخصییتیں اگلے ہفتے واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصبوں سے ملیں گی۔ چینی کمپنیاں امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری کو پھیلا رہی ہیں جس پر بعض امریکی سیاستداں اور کارکن نا خوش ہیں جبکہ بعض دوسرے لوگ جیسے ریاست انڈیانا کے گورنرچاہتے ہیں کہ چین اپنی کاروباری سرگرمیوں کو اور زیادہ وسعت دے۔

گذشتہ مہینے امریکی کی وسط مغربی ریاست انڈیانا کے گورنر مچ ڈینئلز چین کے دورے پر گئے تا کہ چینی کمپنیوں کو اپنی ریاست میں سرمایہ کاری کے لیئے آمادہ کریں اور چین میں اپنی ریاست کی برآمدات میں اضافہ کریں۔ انڈیانا کو بیشتر آمدنی اشیاء کی تیاری سے حاصل ہوتی ہے لیکن آج کل اس کی تقریباً دس فیصد آبادی بے روزگارہے ۔ دورے کے اختتام پر ، کئی چینی کمپنیوں نے انڈیانا میں فیکٹریاں کھولنے یا موجودہ فیکٹریوں کو وسعت دینے کے وعدے کیئے ۔

روب مچ انڈیانا کی سرمایہ کاری کی ایجنسی، Economic Development Corporation اکنامک ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہہم چین کے ساتھ یہاں انڈیانا میں 20 سے زیادہ کاروباری سودوں کی تفصیلات طے کرنے کے بعد واپس لوٹے۔ان میں علاج معالجے کے سودوں سے لے کر انشورنس، موٹر کاروں، بیٹریوں، فرنیچر اور زراعت تک کے منصوبے شامل ہیں۔ انڈیانا جیسی جاندار معیشت میں چین کے لیئے بے انتہا کاروباری مواقع موجود ہیں۔

انٹرنیشنل کنسلٹنگ فرم کے پی ایم جی نے حال ہی میں ایک سروے کیا جس میں150 چینی ایگزیکیوٹوز شامل تھے ۔ اس سروے میں شامل تقریباً نصف بڑی کمپنیوں کے ایگزیکیوٹوز نے کہا کہ اگلے تین برسوں میں ان کا امریکہ میں اثاثے حاصل کر نے کا ارادہ ہے ۔ گذشتہ سال چینی کمپنیوں نے بیرونی ملکوںمیں 42 اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ 2005میں چین کی سرکاری نیشنل آف شور آئل کارپوریشن نے امریکی کمپنی Unocal خریدنے کی کوشش کی تھی۔ یہ کوشش امریکہ میں قومی سلامتی کے بارے میں تشویش کی وجہ سے ناکام ہو گئی تھی۔ اس کے بعد یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ چینی کمپنیاں ، امریکہ میں کوئی بڑے سودے نہیں کر سکیں گی۔ لیکن کاروباری تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چینی کمپنیوں نے اپنی کاروباری سوجھ بوجھ بہت بہتر کر لی ہے اور انھو ں نے امریکہ میں کساد بازاری سے بھی فائدہ اٹھایا ہے ۔

اکتوبر میں چینی کمپنی CNOOC نے ریاست ٹیکساس میں تیل اور گیس کے ایک کنوئیں میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ چین کے سب سے بڑے بنک، ICBC نے نیو یارک میں ایک چھوٹی اسٹاک بروکریج فرم خریدی۔ جولائی میں، ایک چینی کمپنی نے جنرل موٹرز کی ایک ذیلی کمپنی، Nexteer Automotive پ45 کروڑ ڈالر میں خرید لی۔ ریاست مشی گن کی بستی Saginaw میں Nexteer روزگار فراہم کرنے والی دوسری سب سے بڑی کمپنی ہے ۔ یہاں بے روزگاری کی شرح گیارہ فیصد ہے ۔ Nexteer کے بعض کارکن پریشان تھے کہ اگر نئے مالک، کمپنی کا کاروبار چین لے گئے تو ان کی ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ بعض دوسرے لوگ ناخوش تھے کہ ایک ایسی کمپنی جو کبھی امریکہ کی ایک بہت بڑی کمپنی کا حصہ تھی، اب چینیوں کے پاس چلی گئی ہے۔ لیکن چین کے ساتھ سودا ہونے کے بعد سے اب تک کمپنی نے کم از کم 100 نئے لوگوں کو ملازم رکھا ہے۔

ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے سینیئر فیلو ڈیرک سیزرز کہتے ہیں کہ اشیاء کی تیاری اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں چین کے ساتھ سودوں کی مخالفت میں دیے جانے والے بعض دلائل احمقانہ ہیں۔ امریکہ میں بے روزگارکی شرح اب بھی دس فیصد کے قریب ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ چینی سرمایہ کاری سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح امریکی جاب یہیں رہتے ہیں۔ چین کو اس طرح فائدہ پہنچتا ہے کہ اسے امریکہ کے قدرتی وسائل تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے ۔ تیل کو چھوڑ کر، امریکہ باقی تمام قدرتی وسائل میں بے حد مالدار ہے ۔چین کو ان وسائل کی شدید ضرورت ہے۔ امریکہ میں سرمایہ کاری کے لیئے ماحوٖل انتہائی سازگار ہے اور ظاہر ہے کہ چین یہاں سرمایہ لگانا چاہتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ چین قدرتی وسائل کی بہت زیادہ قیمت ادا کرتا ہے۔تو اگر وہ امریکی وسائل کی بھاری قیمت ادا کرنے کو تیار ہے، تو اسے کیوں روکا جائے؟

لیکن بعض امریکی بزنس ایگزیکیوٹیو اور سیاست دانوں کو شکایت ہے کہ چینی حکومت امریکی کمپنیوں کو چین میں اپنا کاروبار پھیلانے کی اجازت نہیں دیتی۔ امریکہ کے وزیرِ تجارت، گیری لوک کہتے ہیں کہ اس معاملے کو کاروبار اور تجارت سے متعلق امریکی اور چینی عہدے داروں کی ت13 دسمبر کی میٹنگ میں اٹھایا جائے گا۔ ہم چاہیں گے کہ چین میں ہمارے شراکت داروں کا رویہ ہمارے رویے کی طرح ہو اور چین کھلی منڈی کی پالیسیوں پر کاربند ہو جس کا وعدہ اس نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شرکت کرتے وقت کیا تھا۔

بہت سی امریکی ریاستوں میں بے روزگاری اور قرضوں کی شرح بہت زیادہ ہے ۔ کیلے فورنیا اور منی سوٹا جیسی ریاستوں کے گورنروں نے حال ہی میں تجارت کو فروغ دینے کے لیئے چین کے دورے کیئے ہیں۔ ریاست انڈیانا کے عہدے دار، اگلے سال کے شروع میں، ایک اور دورے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG