رسائی کے لنکس

ویتنام کے قریب آئل رِگ کی تنصیب ’اشتعال انگیزی‘: امریکہ


’ایسے واقعات اس بات کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دعوے دار بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دعوے کو ثابت کریں اور یہ طے کریں کہ متنازع علاقوں کے اندر کس قسم کی کارروائی کی اجازت ہونی چاہیئے‘: ترجمان محکمہٴ خارجہ

امریکہ کا کہنا ہے کہ بحیرہٴ جنوبی چین کے اُس علاقے میں ’آئل رِگ‘ منتقل کرنا جس پر ویتنام بھی دعوے دار ہے، چین کا عمل ’اشتعال انگیزی‘ کے مترادف ہے۔

تیل کی رِگ کو دوسرے مقام منتقل کرنا چین کی منہ زوری کو ظاہر کرتا ہے، کہ وہ اپنے دعوے کو بحیرہٴجنوبی چین کے متنازع فی خطے میں بڑھاوا دے رہا ہے۔

امریکی محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان، جین ساکی نے یہ بات منگل کو روزانہ بریفنگ میں کہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ بات ’غیر معاون عمل‘ ہے، جِس سے علاقائی تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

بقول اُن کے، بحیرہٴ جنوبی چین کے تناؤ کے معاملے کی حالیہ تاریخ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، آئل رِگ کو متنازع پانیوں کی طرف لے جانے کا چین کا فیصلہ علاقے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے ضمن میں اشتعال انگیز اور بے مصرف نوعیت کا معاملہ ہے۔ ایسے واقعات اس بات کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دعوے دار بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دعوے کو ثابت کریں اور یہ طے کریں کہ متنازع علاقوں کے اندر کس قسم کی کارروائی کی اجازت ہونی چاہیئے۔

سمندر کی گہرائی والی یہ رِگ ویتنام کے ساحلوں سے محض 220 کلومیٹر دور ہے، اور اُسی علاقے کے اندر ہے جسے ہینوئی اپنا ’مخصوص معاشی زون‘ قرار دیتا ہے۔

ویتنام کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ تیل کی ڈرلنگ کا ’سخت مخالف‘ ہے۔ اُس نے مطالبہ کیا ہے کہ اِس رِگ کو، جس کے گِرد فوجی کشتیاں تعینات ہیں، فوری طور پر ہٹایا جائے۔

دریں اثنا، چین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرلنگ پلیٹ فارم ایسے علاقے میں واقع ہے جو چین کے اقتدار اعلیٰ کی حدود میں آتا ہے، اور کہا ہے کہ وہ ویتنامی حکام کی باتوں سے ’ہراساں‘ نہیں ہوگا۔

ایچ ڈی 981رِگ ’چائنا نیشنل آف شور آئل کارپوریشن‘ کی ملکیت ہے، جو چین کا تیل کا تیسرا بڑا قومی ادارہ ہے۔ یہ ہانگ کانگ کے قریب تیل کی تلاش کا کام کرتا رہا ہے۔

چین کی ’میری ٹائم سیفٹی ایڈمنسٹریشن‘ نے پیر کے دِن تمام کشتیوں کے لیے انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ رِگ سے کم ازکم پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر رہیں۔

ساتھ ہی، تیل سے مالا مال اور اسٹریٹجک نوعیت کے بحیرہٴ جنوبی چین کے خطے پر ویتنام، برونائی، ملائیشیا، فلپائن اور تائیوان کا بھی چین کے ساتھ تنازعہ ہے۔

متحارب دعویدار چین پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے کے دفاع کے لیے جارحانہ حربوں پر اتر آیا ہے۔ قدیمی نقشوں کی بنیاد پر چین تقریباً اِس سارے علاقے پر دعویدار ہے۔
XS
SM
MD
LG