رسائی کے لنکس

چینی وزیر اعظم کا دورہ اور بھارت کی پریشانی

  • کرٹ ایچن
  • جمیل اختر

چینی وزیر اعظم کا دورہ اور بھارت کی پریشانی

چینی وزیر اعظم کا دورہ اور بھارت کی پریشانی

بھارت نے اس مہینے چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ کے دورے کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے تاہم نئی دہلی نے ابھی تک اس سلسلے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے کہ آیا وہ چین میں سزا کاٹنے والے لیو شاؤبو کو اوسلو میں امن نوبیل انعام دیے جانے کی تقریب میں شرکت کے لیے کسی کو بھیج رہے ہیں۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز خصوصی طورپر یہ بتایا کہ چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ 15 سے 17 دسمبر تک ملک کا سرکاری دورہ کریں گے۔ ان کے دورے سے پانچ ر وز قبل یعنی 10 دسمبر کو نوبیل انعام کمیٹی نے لیو شاؤبو کو امن ایوارڈ دینے کی تقریب طے کررکھی ہے۔ لیو چین میں جمہوریت کے فروغ کے ایک سرگرم کارکن ہیں اور وہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ بیجنگ انہیں باغی قرار دیتا ہے۔

18 ممالک چین کا ساتھ دیتے ہوئے نوبیل کمیٹی کی انعامی تقریب سے بائیکاٹ کا اعلان کرچکے ہیں جن میں بھارت کے سب سے بڑے حریف اور چین کا اتحادی پاکستان بھی شامل ہے۔ چین انتباہ کرچکاہے کہ جو ممالک نوبیل کمیٹی کی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے نمائندے بھجیں گے انہیں معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

چینی راہنما کے عنقریب دورے سے، اس وقت کے تعین نے بھارتی عہدے داروں کے لیے کئی مسائل کھڑےکردیے ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک یہ غور کررہے ہیں کہ آیا انہیں نوبیل امن ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کرنی چاہیے۔ چینی وزیر اعظم کے دورے کے اتنے قریب بیجنگ کو مشتعل کرنے پر کچھ خدشات پائے جاتے ہیں جن میں بھارت چین سرحدی تنازع جیسے مشکل معاملات پر پیش رفت شامل ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک مستقل رکن بننا بھی چاہتا ہے اور چین جو کہ اس ادارے کا ایک مستقل رکن ہے، اگر چاہے تو اس کا راستہ روک سکتا ہے۔

بھاسکررائےجنوبی ایشیائی امور سے متعلق ایک ادارے کے اسکالر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امن نوبیل انعام کی تقریب سے بھارتی بائیکاٹ کے امکانات پچاس فی صد ہیں ، جن کا انحصار چینی وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر بہتر فضا کی نئی دہلی کی خواہش سے ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے لیے امن کمیٹی کی تقریب میں اپنا نمائندہ بھیجنے کا معاملہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارتی امن کا نوبیل انعام حاصل کرچکے ہیں اور بھارت کے لیے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ وہ کسی دباؤ کے تحت اس کی تقریب میں شرکت نہ کرے۔

رائے اور دوسرے تجزیہ کار نوبیل امن انعام کی تقریب میں شرکت کے سوال کو بھارت کی حکمت عملی کے ایک اہم پہلو کے طورپر دیکھتے ہیں۔

سابق بھارتی کیبنٹ سیکرٹری بی رامن کہتے ہیں کہ بھارت کی عدم شرکت سے دنیا کو ایک غلط پیغام جاسکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمارا ایک ایسے کمزور ملک ہونے کا تاثر ابھرے گا جو چین کا دباؤ قبول کرسکتا ہے۔ اور ہمیں اپنا اس طرح کا تاثر قائم نہیں کرنا چاہیے۔

رامن کہتے ہیں کہ اس وقت کمزوری ظاہر کرنے سے مستقبل میں مزید دباؤ ڈالنے کے لیے چین کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ان کا کہناتھا کہ بھارت کو دنیا میں ایک لمبی مدت کے لیےجمہوریت کے ایک حامی کے طورپر پیش کرنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

بھارت نے ماضی میں کبھی بھی نوبیل امن انعام کی تقریبات کا بائیکاٹ نہیں کیا۔

XS
SM
MD
LG