رسائی کے لنکس

چین: صدر کے لیے فوج کے کمانڈر انچیف کا عہدہ


چین کی فوج دنیا کی سب سے بڑی مستقل فوج ہے۔ فائل فوٹو

چین کی فوج دنیا کی سب سے بڑی مستقل فوج ہے۔ فائل فوٹو

صدر ہونے کے ساتھ ساتھ شی پہلے ہی سنٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین ہیں جو انہیں 23 لاکھ فوجیوں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی فوج پیپلز لبریشن آرمی کے بارے میں فیصلہ سازی کا اخیتار دیتا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جنپنگ کو ملک کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ سینٹر میں’’کمانڈر انچیف‘‘ کا نیا عہدہ دیا گیا ہے جس کے بعد وہ چین کی فوج کی قیادت میں مزید نمایاں کردار ادا کریں گے۔

شی جنپنگ کو بدھ اور جمعرات کو آنے والی خبروں میں پہلی مرتبہ میدان جنگ میں استعمال ہونے والا فوجی لباس پہنے دیکھا جا سکتا ہے جس پر کمانڈ سینٹر کا علامتی نشان بنا ہے۔

صدر ہونے کے ساتھ ساتھ شی پہلے ہی سنٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین ہیں جو انہیں 23 لاکھ فوجیوں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی فوج پیپلز لبریشن آرمی کے بارے میں فیصلہ سازی کا اخیتار دیتا ہے۔

شی چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور حال ہی میں بنائی گئی نیشنل سکیورٹی کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔

2012 میں اقتدار میں آنے کے بعد شی جنپنگ نے زیادہ جارحانہ خارجہ پالیسی اپنائی ہے۔ ان کے دور میں بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزائر کی تیزی سے تعمیر بھی کی گئی ہے اور جاپان کے زیرِ تصرف پانیوں میں بحری جہاز بھیجے گئے ہیں جسے بہت سے لوگ جارحیت کی علامت سمجھتے ہیں۔

سرکاری خبررساں ادارے ’شنخوا‘ نے خبر دی ہے کہ شی نے بدھ کو کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عملے کو ’’عالمی فوجی انقلاب کے رجحانات کا قریب سے جائزہ لینے اور ایک مشترکہ جنگی کمان کا نظام تعمیر کرنے کا کہا جو معلومات پر مبنی لڑائیاں لڑنے اور جیتنے کے قابل ہو۔‘‘

اس موقع پر کمیشن کے دو وائس چیئرمین جنرل فین چینگلونگ اور جنرل شو کلیانگ شی کے ہمراہ تھے۔ مبینہ طور پر یہ مرکز بیجنگ کے مغرب میں زیر زمین واقع ہے۔

XS
SM
MD
LG