رسائی کے لنکس

توہینِ رسالت کا الزام، عیسائی جوڑے کو سزائے موت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

عیسائی جوڑے پر الزام تھا کہ اس نے گزشتہ سال جولائی میں ایک مقامی مسجد کے پیش امام کو موبائل فون پر توہین آمیز پیغامات بھیجے تھے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب میں ایک مقامی عدالت نے توہینِ رسالت کے الزام میں ایک عیسائی جوڑے کو موت کی سزا سنائی ہے۔

حکام کے مطابق عیسائی جوڑے پر الزام تھا کہ اس نے گزشتہ سال جولائی میں ایک مقامی مسجد کے پیش امام کو موبائل فون پر توہین آمیز پیغامات بھیجے تھے۔

امام مسجد کی شکایت پر پولیس نے 38 سالہ شفقت ایمانوئیل اور اس کی 42 سالہ بیوی شگفتہ کوثر کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا تھا۔

عیسائی جوڑے کے خلاف مقدمے کی سماعت ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ایک عدالت میں جاری تھی جس نے جمعے کو جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔

عیسائی جوڑے کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے گوجرہ سے ہے جہاں 2009ء میں قرآن کی مبینہ توہین کی خبر پھیلنے کے بعد مشتعل افراد نے ایک عیسائی آبادی پر حملہ کرکے 75 سے زائد گھروں کو نذرِ آتش کردیا تھا۔

چار سال قبل پیش آنے والے اس واقعے میں سات افراد مارے گئے تھے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ادارے 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' نے عدالتی فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جج نے مقامی افراد کے دباؤ پر یہ فیصلہ سنایا ہے۔

کمیشن کے ایک عہدیدار ندیم انتھونی نے 'وائس آف امریکہ' کے لاہور میں نمائندہ افضل رحمن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقدمے کے دوران وکیلِ صفائی نے موقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ پیغامات عیسائی جوڑے نے نہیں بھیجے تھے کیوں کہ ان کے زیرِ استعمال موبائل واقعے سے قبل ہی گم ہوگیا تھا۔

ندیم انتھونی کے مطابق سزا پانے والے میاں بیوی ان پڑھ ہیں اور ان کے تین بچے ہیں جب کہ ملزم شفقت ایمانوئیل معذور ہے۔

پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران توہینِ رسالت کے کسی ملزم کے خلاف سزائے موت کا یہ دوسرا عدالتی فیصلہ ہے۔

اس سے قبل 27 مارچ کو پنجاب کے صدر مقام لاہور کی ایک عدالت نے ساون مسیح نامی ایک عیسائی نوجوان کو توہینِ رسالت کا الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔

نوجوان پر گزشتہ سال اس کے ایک دوست نے کسی بحث کے دوران توہینِ رسالت پر مبنی جملے کسنے کا الزام عائد کیا تھا جس پر اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان میں 1980ء کی دہائی میں نافذ ہونے والے 'ناموسِ رسالت' کے قانون کو ملک میں آباد اقلیتوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

مذکورہ قانون کے تحت کسی بھی مذہب یا پیغمبر کی توہین قابلِ سزا جرم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1986ء سے اب تک اس قانون کے تحت ایک ہزار سے زائد افراد کے خلاف مقدمات کا اندراج ہوچکا ہے۔
XS
SM
MD
LG