رسائی کے لنکس

ٹیکنالوجی سچے صحافی کا بدل نہیں: کرسچیان امان پور


کرسچیان امان پور

کرسچیان امان پور

سی این این کی صحافی کرسچیان امان پور کہتی ہیں کہ ٹیکنالوجی خواہ جتنی بھی ترقی کر لے، اچھی تصویر لینے کے لئے صحافی کو خطرے کے قریب جانا پڑتا ہے اور ٹیکنالوجی سچے صحافی کا بدل نہیں ہوسکتی۔ کرسچیان امن پور واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کر رہی تھیں جس میں 2009ء میں صحافت کے پیشے کی حقیقی قیمت اداکرنے والے پانچ پاکستانی صحافیوں سمیت دنیا بھر کے88 صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

امان پور کا کہنا تھا کہ صحافتی سچائیوں کی قیمت اپنی جان دے کر چکانے والے ان صحافیوں کو ہر سال مئی کے مہینے میں یاد کرنے کی روایت زیادہ پرانی نہیں مگراس روایت نے صحافتی صنعت سے وابستہ افراد کو ایک موقعہ فراہم کیا ہے اپنے ان ساتھیوں کو یاد کرنے کا ، جنہوں نے ان کے کے پیشے کی اصلی اور ناقابل فراموش قیمت ادا کی۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ڈی سی کے جرنلسٹ میموریل کی اس دیو قامت دیوار پر اس سال 2009ء کے دوران دنیا بھر میں ہلاک یا قتل ہونےو الے88 صحافیوں کے ناموں کااضافہ ہوا ہے۔ جن میں پانچ پاکستانی صحافی طاہر اعوان ، جان اللہ ہاشم زادہ ، محمد عمران ، صادق باچہ خان اور موسی خان خیل کے نام بھی شامل ہیں۔

امان پور نے کہا کہ میں اس وقت بہت جذباتی ہوں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو میں قریب سے جانتی تھی۔ ان کے ساتھ میں نے فیلڈ میں کام کیا تھا۔ میرے اتنے بہت سے ساتھی اس فرض کی ادائیگی کے دوران مارے جا چکے ہیں کہ میں جانتی ہوں یہ کس قدر اہم ہے۔ ۔ آُ پ کا جہاں سے بھی تعلق ہے ، آپ کا جو بھی ملک ہے ،چاہے بہترین جمہوریت یا بد ترین آمریت ، آپ کے پاس اطلاعات اور سچائی کی ایسی کرنسی ہے ، جس کا کوئی متبادل نہیں۔ ترقی کے لئے، آزادی کے لئے ، معلومات اور خودمختاری کے لئے۔

جرنلسٹ میموریل کی انتظامیہ صحافیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور اپنے ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر ہر سال اس دیوار پر نئے ناموں کا اضافہ کرتی ہے۔ اور دستیابی کی صورت میں صحافی کی تصویر،ورنہ صرف نام اس دیوار پر درج کئے جاتے ہیں جس پر 1837ء سے اب تک 2007 رپورٹرز ، فوٹوگرافرز، براڈ کاسٹرز کے نام درج ہو چکے ہیں۔

نیوزیم کی نائب صدر سوزن بینٹ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال اس دیوار پر2009ءمیں ہلاک ہونےو الے 88 صحافیوں کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ یہ اگرچہ ایک سال میں ہلاک ہونے صحافیوں کی سب سے بڑی تعداد تو نہیں ہے مگر ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ جو بتاتی ہے کہ یہ 88 زندگیاں ، 88 خاندان اور88نیوز آرگنائزیشنز ہیں جن کو اتنے فرض شناس صحافیوں سے محروم ہونا پڑا۔ ہمیں امید کرنا چاہتے ہیں کہ اگلے سال یہ تعداد صفر ہو۔ اگرچہ اس سال بھی اب تک کئی صحافی ہلاک ہو چکے ہیں ،مگر ہم چاہتے ہوں کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو۔

واشنگٹن ڈی سی کے اس میموریل کی دیوار پر ہر سال ہلاک والے صحافیوں کے ناموں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی نے سچ کاسفر تیز تر کر دیا ہے مگر کرسچیان امان پور کہتی ہیں کہ ٹیکنالوجی کبھی سچے اور سخت جان صحافی کا متبادل نہیں ہو سکتی اور یہ کہ سچ کی تلاش میں خطرے کے قریب جانا ہی پڑتا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ میرے خیال میں لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ ٹیکنالوجی پر زیادہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے جو بالکل غلط ہے۔ ہمیں ان لوگوں پر بھروسہ کرنا ہوگا جنہیں اپنے کام پر بھروسہ ہے ،صحافت ایک سخت پیشہ ہے، یہ کوئی جز وقتی ملازمت نہیں ہے۔ یہ ایک اصلی اور حقیقی ہنر ہے۔ ایک معزز پیشہ۔ اور یہ بنیاد ہے ایک مضبوط معاشرےاور جمہوریت کی۔ امریکہ کبھی جمہوری ملک نہ بن سکتا اگر اس کے پاس فرض شناس صحافی طبقہ موجود نہ ہوتا۔ اور میرے خیال میں دنیا میں ہر جگہ ملک آمریت سے نکل رہے ہیں اور زیادہ تر یہ صحافی ہی ہیں جو ان تبدیلیوں کی وجہ بن رہے ہیں۔

بانو قدسیہ نے اپنی کتاب حاصل گھاٹ میں لکھا ہےکہ سچائی کی تلاش ایک تنہا کر دینے والا سفر ہے جس کے راستے میں مشکلات آتی ہی ہیں، کرسچیان امان پور کہتی ہیں کہ جرنلسٹ میموریل کی دیوار پر لکھے نام اور وہاں لگی تصویریں دیکھ کر ان خطرات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے جو صحافیوں کو سچائی کی تلاش کے دوران پیش آتی ہیں۔ مگر یہاں آنے والے بہت سے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ ان صحافیوں میں سے کسی نے بھی تصویر بن کر اس دیوار پر لٹکنا نہیں چاہا تھا۔

صحافتی آزادیوں کا جائزہ مرتب کرنے والی تنظیموں کے مطابق 1991ء میں93 ، 1994ء میں 94 ، 2004ء میں 79 ، 2007ء اور 2009ء میں88 صحافیوں کی ریکارڈ شدہ ہلاکتوں کے باعث یہ پانچ سال صحافیوں کے قتل کے واقعات کے لحاظ سے بد ترین رہے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر صحافیوں کے خون کا حساب ان کے اپنے اپنے ملکوں کے تفتیشی سرد خانوں کی برف پگھلنے کا انتظار کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG