رسائی کے لنکس

’اسامہ کی تلاش کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مہم‘


’اسامہ کی تلاش کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مہم‘

’اسامہ کی تلاش کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مہم‘

برطانوی اخبار نے خبر دی ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی تصدیق کے لیے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ایک پاکستانی ڈاکٹر کی مدد سے ویکسین کی جعلی مہم شروع کی تھی۔

اخبار ”گارڈین“کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس ادارے نے ڈاکٹرشکیل آفریدی کو دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن کے بعد سی آئی اے سے تعاون کے الزام میں گرفتارکرلیا تھا۔

سی آئی اے کے اہلکاروں نے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے بارے میں اس وقت سوچا جب وہ اسامہ کے پیغام رساں ابو احمد الکویتی کا پیچھا کرتے ہوئے اس گھر تک پہنچے جو بعدازاں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ ثابت ہوا۔ امریکی خفیہ ادارے کے اہلکار سیٹلائیٹ اور دیگر طریقوں سے بھی اس عمارت کی نگرانی کرتے رہے۔

اس مہم کا مقصد بن لادن کے خاندان کا ڈی این اے حاصل کرنا تھا تاکہ کسی غیر ملک میں خفیہ آپریشن سے قبل پوری طرح سے تسلی کر لی جائے کہ اسامہ ایبٹ آباد کے اس گھر میں موجود ہے۔ حاصل کردہ ڈی این اے کو اسامہ بن لادن کی بہن کے نمونے سے موازنہ کیا جانا تھا جس کا 2010ء میں امریکی شہر بوسٹن میں انتقال ہوگیا تھا۔ اس طرح اس بات کی حتمی تصدیق کی جاسکتی تھی کہ اسامہ بن لادن کا خاندان ایبٹ آباد میں موجود ہے۔

اس جعلی مہم کے لیے سی آئی اے نے خیبر ایجنسی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطہ کرکے اس منصوبے کے لیے تیار کیا اوروہ مارچ میں ایبٹ آباد پہنچے اور کہا کہ ُانھوں نے ہیپاٹائٹس بی کی مفت ویکسینیشن کے لیے فنڈز حاصل کیے ہیں۔ ڈاکٹر آفریدی نے ایبٹ آباد کے محکمہ صحت کے حکام سے قواعد و ضوابط کے تحت رابطہ کیے بغیر مقامی صحت کے نچلے درجے کے ملازمین کو ’فراخدلانہ‘ رقم فراہم کی جنہوں نے یہ جانے بغیر کہ اس مہم کا اصل مقصد کیا ہے ڈاکٹر آفریدی کا ساتھ دیا۔

مارچ میں مہم کے پہلے مرحلے میں ایبٹ آباد کے نسبتاً غریب علاقے نواں شہر سے بچوں کوہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے مفت حفاظتی ٹیکے لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کے ٹیکے ایک مہینے کے وقفے سے تین بار لگائے جاتے ہیں مگر نواں شہر میں دوسری خوراک دینے کی بجائے ڈاکٹر آفریدی نے طبی عملے کو بن لادن کی رہائش گاہ والے علاقے بلال ٹاؤن جانے کا کہا۔

گاڑدین کی خبر کے مطابق بختو کے نام سے پہچانی جانے والی نرس مختار بی بی ویکسینیشن لگانے کے لیے بن لادن کے گھرکے اندر پہنچنے میں
کامیاب ہوئی ۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹرآفریدی اس دوران گھر کے باہر موجود رہے تاہم اس نے مختار بی بی کو الیکٹرانک آلات سے آراستہ ایک بیگ اپنے ساتھ لے جانے کے لیے کہا تھا۔ یہ واضح نہیں کہ یہ آلات کیا تھے اور آیا وہ اس بیگ کو بن لادن کے گھر چھوڑ آئی تھی یا نہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ سی آئی اے بن لادن کے بچوں کا ڈی این اے حاصل کر سکا یا نہیں لیکن ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ”آپریشن کامیاب نہیں ہوا“۔

اخبار کے مطابق اس ساری مہم سے ناواقف مختار بی بی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

پاکستان نے سرکاری طور پر ڈاکٹر آفریدی کی گرفتاری پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے لیکن خبر کے مطابق ایک سینئر عہدیدارکاکہنا تھا ”کیا کوئی ملک غیر ملکی خفیہ ادارے کے لیے کام کرنے پر لوگوں کو گرفتار نہیں کرتا“۔

ایبٹ آباد میں امریکی خفیہ آپریشن کے بعد پاکستانی سراغ رساں ادارے آئی ایس آئی نے متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا تاہم باور کیا جاتا ہے کہ ان افراد میں سے صرف ڈاکٹر آفریدی تاحال زیر حراست ہیں۔

XS
SM
MD
LG