رسائی کے لنکس

دہشت گرد موقع کی تاک میں ہیں: سی آئی اے چیف کا انتباہ


فائل

فائل

سی آئی اے کے سربراہ جان برینن نے کہا کہ دہشت گرد عناصر منتظر ہیں کہ امریکہ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے قوانین اور پالیسیوں کو نرم کرے تاکہ انہیں اپنی کارروائیاں کرنے کا موقع مل سکے۔

امریکہ کے خفیہ ادارے 'سی آئی اے' کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی دہشت گردوں نے امریکہ کے سکیورٹی کے نظام پر نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ امریکہ کو نشانہ بنانے کے لیے موقع کی تاک میں ہیں۔

اتوار کو امریکی ٹی وی 'سی بی ایس' کے پروگرام 'فیس دی نیشن' میں گفتگو کرتے ہوئے 'سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی' (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان برینن نے امریکی سینیٹ پر زور دیا کہ وہ امریکی سکیورٹی سے متعلق ضروری قانون سازی کرے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر منتظر ہیں کہ امریکہ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے قوانین اور پالیسیوں کو نرم کرے تاکہ انہیں اپنی کارروائیاں کرنے کا موقع مل سکے۔

سی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں دہشت گردی اور تشدد کے ہولناک واقعات پیش آرہے ہیں امریکہ اس بارے میں کسی لاپرواہی یا کوتاہی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

جان برینن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ کا ایک اہم اور غیر روایتی اجلاس اتوار کی شام منعقد ہورہا ہے جس میں کانگریس کے ایوانِ بالا کے ارکان اس قانون کی مدت میں توسیع کرنے یا نہ کرنے پر بحث کریں گے جس کے تحت امریکی خفیہ ادارے 'نیشنل سکیورٹی ایجنسی' (این ایس اے) کو لاکھوں امریکی شہریوں اور مشتبہ دہشت گردوں کے ٹیلی فون کا ڈیٹا جمع کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

مذکورہ قانون کی مدت اتوار کو پوری ہورہی ہے اور اوباما انتظامیہ اور سکیورٹی حکام نے کانگریس کے ارکان سے اس قانون میں توسیع کرنے کی استدعا کی ہے۔

امریکی کانگریس کا ایوانِ نمائندگان اس ضمن میں پہلے ہی ایک ترمیم شدہ مسودۂ قانون منظور کرچکا ہے جس کے تحت ٹیلی فون ڈیٹا جمع کرنے کی ذمہ داری 'این ایس اے' سے لے کر ٹیلی فون کمپنیوں کو دیدی گئی ہے۔

ایوان کی جانب سے منظور کی جانے والی ترمیم کے مطابق انٹیلی جنس اہلکار ضرورت پڑنے پر کسی مشتبہ شخص کا ٹیلی فون ڈیٹا فون کمپنی سے طلب کرنے کے مجاز ہوں گے لیکن انہیں اپنے تئیں یہ ڈیٹا جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایوانِ نمائندگان کے منظور کردہ اس ترمیم شدہ مسودۂ قانون کو 'یو ایس اے فریڈم ایکٹ' کا نام دیا گیا ہے اور صدر براک اوباما نے بھی امریکی سینیٹ سے اسے منظور کرنے کی استدعا کی ہے۔

لیکن امریکی سینیٹ کے ارکان میں اس بارے میں واضح تفریق پائی جاتی ہے کہ آیا پہلے سے موجود قانون میں توسیع کی جائے یا اس میں ترمیم کرکے انٹیلی جنس اداروں کو حاصل اختیارات میں کمی کردی جائے۔

سینیٹ کے ایک اہم رکن اور 2016ء کے صدارتی انتخاب کے لیے ری پبلکن جماعت کے ٹکٹ کے خواہش مند رینڈ پال اعلان کرچکے ہیں کہ وہ 'پیٹریاٹ ایکٹ' نامی موجودہ قانون کو امریکی شہریوں کے حقوق کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں جماعتوں کے ارکان کی قابلِ ذکر تعداد ایوانِ نمائندگان کی جانب سے منظور کیے جانے والے ترمیم شدہ بِل کو منظور کرنے کی حامی ہے۔

لیکن سینیٹ کے اکثریتی ری پبلکن رہنما مِچ مکونیل کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹرز کو موجودہ 'پیٹریاٹ ایکٹ' میں توسیع کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ انٹیلی جنس ایجنسیاں لاکھوں امریکی شہریوں کا ٹیلی فون ڈیٹا جمع کرنے کی اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔

اگر امریکی سینیٹ کے ارکان اتوار کی شب 12 بجے تک کسی اتفاقِ رائے میں ناکام رہے تو 'نیشنل سکیورٹی ایجنسی' کو ٹیلی فون ڈیٹا جمع کرنے کا پروگرام عارضی طور پر روکنا پڑے گا تاوقتیکہ سینیٹ اس بارے میں کوئی قانون سازی نہیں کرلیتی۔

XS
SM
MD
LG