رسائی کے لنکس

’امریکہ ڈرون حملوں کی مہم محدود یا ختم نہیں کرے گا‘


ڈرون حملوں کے خلاف قبائلی سراپا احتجاج

ڈرون حملوں کے خلاف قبائلی سراپا احتجاج

سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے سربراہان کے درمیان ہونے والی بات چیت سے باخبر ایک امریکی عہدے دار نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی عوام کا تحفظ پناٹا کی ذمہ داری ہے اور وہ اس مقصد کے حصول میں مدد دینے والے کسی بھی آپریشن کو ختم نہیں کریں گے۔“

امریکہ کے ایک بااثر اخبار کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستانی سرزمین پر موجود امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکاروں اور اُن کی سرگرمیوں کے بارے میں پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ معلومات کا تبادلہ کرنے اور بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں یا ڈرون سے میزائل حملوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

لیکن اخبار واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے اصرار کیا کہ سی آئی اے کے زیر نگرانی جاری ڈرون مہم کو معطل کرنے یا محدود کرنے کا اُن کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

دہشت گردی کے خلاف مہم میں دونوں قریبی اتحادی ملکوں کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں تناؤ کا شکار رہے ہیں جس کی وجہ سی آئی اے کے لیے نجی حیثیت میں کام کرنے والے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتار ی اور گذشتہ ماہ شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں حکومت کے حامی قبائلیوں کی ہلاکت ہے۔

واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اور پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ پیر کو امریکہ میں سی آئی اے کے ہیڈکوارٹرز میں ادارے کے سربراہ لیون پناٹا اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے درمیان ہونے والی تقریباً چار گھنٹے طویل ملاقات میں دوطرفہ تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے پر بات چیت ہوئی۔

اخبار کے مطابق طرفین نے دو طرفہ تعاون میں پیش رفت کی تفصیلات سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا لیکن اہم معاملات پر اختلافات دور نہیں ہوسکے۔

پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر ”عام جنگجو “مارے جارہے ہیں اور اُن کا الزام ہے کہ سی آئی اے کے عہدے دار کی طرف سے ان میزائل حملوں کے اہداف کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد ان کارروائیوں کے لیے جواز فراہم کرنا ہے۔

لیکن واشنگٹن پوسٹ کے اس استفسار پر کہ کیا جنرل پاشا نے سی آئی اے کے سربراہ سے ملاقات میں ڈرون حملے روکنے کی باضابطہ درخواست کی تو ایک پاکستانی عہدے دار نے محض اتنا کہا کہ ”ایسے الفاظ میں نہیں“۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل پاشا (فائل فوٹو)

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل پاشا (فائل فوٹو)

سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے سربراہان کے درمیان ہونے والی بات چیت سے باخبر ایک امریکی عہدے دار نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی عوام کا تحفظ پناٹا کی ذمہ داری ہے اور وہ اس مقصد کے حصول میں مدد دینے والے کسی بھی آپریشن کو ختم نہیں کریں گے۔“

عہدے دار نے اُن اطلاعات کی بھی تردید کی کہ جنرل پاشا نے پاکستان میں تعینات سی آئی اے کے اہلکاروں کی تعداد میں کمی کا مطالبہ کیا۔”یہ موضوع زیر بحث نہیں آیا۔“

اپنے اہلکاروں کے نام اور اُن کی سرگرمیوں کے بارے میں پاکستانی ہم منصبوں کو باخبر رکھنے پر سی آئی اے کی رضا مندی کا مقصد پاکستان میں پائے جانے والے اُس غصے کو کم کرنے کی کوشش ہے جس کی وجہ 27 جنوری کو لاہور میں سی آئی اے کے نجی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کی ہلاکت کا واقعہ ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نئی شرائط کے تحت امریکی سی آئی اے پاکستان میں اپنے نجی اور دیگر افسران کے بارے میں پاکستانی حکام کو زیادہ بہتر طور پر باخبر رکھنے کی پابند ہوگی لیکن بعض افسران پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG