رسائی کے لنکس

سی آئی اے کے سربراہ کو اسلام آبادسے واپس بلا لیا گیا


سی آئی اے کے سربراہ کو اسلام آبادسے واپس بلا لیا گیا

سی آئی اے کے سربراہ کو اسلام آبادسے واپس بلا لیا گیا

امریکہ کے حساس ادارے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے اسلام آباد میں تعینات اپنے سربراہ کو ان کی زندگی کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیش نظر پاکستان سے فوراً واپس بلا لیا ہے۔

اسلام آباد میں سی آئی اے کے سربراہ کی شناخت اسے ہفتے کے دوران منظر عام پر آئی جب ایک پاکستانی وکیل نے ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کی جانب سےایک عدالت میں ہرجانے کی اپیل دائر کی ہے۔ ہرجانے کے دعوے میں اسلام آباد میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کے علاوہ ادارے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا اور امریکی وزیر دفاع کو بھی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

سی آئی اے کے ایک ترجمان جارج لٹل نے جمعے کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس مقدمے کی تفصیلات کی تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے اسٹیشن چیفز کو بڑے خطرات کا سامنا ہوتا ہے اور ادارے کے لئے ان کو تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہوتی ہے خاص طور پر جب انہیں فوری خطرہ لاحق ہو۔

امریکی حکام میزائل حملوں میں ڈرون کے استعمال پر کوئی بیان دینے سے گریز کرتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں القاعدہ اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف جنگ کا اہم حصہ ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں تعینات سی آئی اے کے سربراہ نہ صرف ڈرون پروگرام بلکہ پاکستان کے حساس ادارے آئی ایس آئی کے ساتھ روابط میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

حالیہ کچھ ماہ میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں کافی تیزی آئی ہے اور پچھلے دو روز میں پہلی بار ان طیاروں کے ذریعے خیبر ایجنسی میں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں اب تک 30سے زائدمشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG