رسائی کے لنکس

’پولینڈ میں مشتبہ دہشت گردوں سے سخت پوچھ گچھ کی گئی‘


فائل

فائل

پہلی بار پولینڈ کے کسی سابق صدر نے عام بیان میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ اُن کے ملک میں قیدخانہ موجود تھا، جب کہ کئی برسوں تک اس دعوے کو مسترد کیا جاتا رہا

پولینڈ کے سابق صدر، کواسنکسی نے کہا ہے کہ پولینڈ نے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کو اپنے علاقے میں ایک خفیہ قیدخانہ کھولنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ تاہم، اُنھوں نے کہا ہے کہ پولینڈ کے حکام نے ادارے کو اِس مقام پر مشتبہ دہشت گردوں سے انتہائی سخت سلوک روا رکھنے یا اذیت دینے کا اختیار نہیں دیا تھا۔

وارسا کے ایک ریڈیو اسٹیشن، ’ٹاک ایف ایم‘ کو بدھ کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں، مسٹر کواسنکسی نے کہا کہ اُنھوں نے اُس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش سے مطالبہ کیا تھا کہ 10 برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی امریکی انٹیلی جنس کی تمام سرگرمیاں بند کی جائیں۔

مسٹر کواسنکسی نے کہا کہ وقت آیا کہ یہ کوششیں دم توڑ گئیں۔

پہلی بار پولینڈ کے کسی سابق صدر نے عام بیان میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ اُن کے ملک میں قیدخانہ موجود تھا، جب کہ کئی برسوں تک اس دعوے کو مسترد کیا جاتا رہا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 2002ء سے 2003ء کے دوران، سی آئی اے نے پولینڈ میں یہ تنصیب جاری رکھی تھی۔

مسٹر کواسنکسی نے یہ بیان سی آئی اے کے بارے میں امریکی سینیٹ کی کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ کے ایک ہی روز بعد دیا ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سی آئی اے نے قیدیوں کی تفتیش کے لیے انتہائی سخت قسم کے طریقہٴکار استعمال کیا، جو اذیت کے زمرے میں آتا ہے۔

تفتیش کے اِس طریقہٴکار میں چھوٹی کال کوٹھڑی میں مقید رکھنا، نیند نہ کرنے دینا اور ڈوبنے کا احساس دلانا شامل تھا۔

رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے سے چین اور شمالی کوریا کے طرف سے سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے، جِن دو ملکوں میں انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں امریکہ اکثر و بیشتر آواز بلند کرتا رہتا ہے۔

چین کے سرکاری خبررساں ادارے، ’شِنہوا‘ نے یہ کوڑی ڈھونڈ نکالی ہے کہ امریکہ دوسرے ملکوں کے لیے قابلِ تقلید (رول ماڈل) نہیں رہا، اور یہ کہ اُسے دیگر ملکوں کے حقوقِ انسانی پر منصف کے فرائض انجام دینے کا حق نہیں۔

شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے سی آئی اے کی حرفتوں کو ’غیر انسانی‘ قرار دیا ہے؛ اور اقوام متحدہ پر ’امریکی پولیس مین کے مظالم‘ کی پردہ پوشی کا الزام لگایا ہے۔


علاوہ ازیں، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اپنے بیانات میں سی آئی اے کی طرف سے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف انتہائی سخت تفتیش کے طریقے اپنانے میں ملوث اہل کاروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے۔ حقوق انسانی اور انسداد دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی، بین اِمرسن کا کہنا ہے کہ امریکی سینیٹ کی رپورٹ ’اس بات کی ضرورت کو واضح کرتی ہے کہ اِن جرائم کا احتساب کیا جائے‘۔

کینیتھ رُتھ، امریکہ میں قائم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے انظامی سربراہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب تک ملوث اہل کاروں کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی جاتی، اذیت کا آپشن آئندہ صدور کے سوابدیدی دسترس میں رہے گا۔

XS
SM
MD
LG