رسائی کے لنکس

ڈک چینی کا سی آئی اے کے سخت تفتیشی طریقہٴکار کا دفاع


فائل

فائل

اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ سینیٹ کی رپورٹ آنے کے بعد، مذمت کے بجائے، سی آئی اے کو ’شاباشی دی جانی چاہیئے‘

سابق امریکی نائب صدر، ڈک چینی نے کہا ہے کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے وہی کچھ کیا، جس کا اُن سے وائٹ ہاؤس نے تقاضا کیا، جس میں 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کو مد نظر رکھ کر مشتبہ دہشت گردوں کی تفتیش کے لیے ایک پروگرام تشکیل دیا گیا۔

بدھ کو ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں، چینی نے کہا کہ اِس پروگرام بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ذمہ داروں کو پکڑا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس طرح کا کوئی حملہ پھر کبھی نہ ہو۔

تفتیش کے بارے میں فیصلے سے متعلق سوال پر، اُن کا کہنا تھا کہ، ’ایک منٹ کی تاخیر کیے بغیر، میں پھر یہی (فیصلہ) کروں گا‘۔


اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ سینیٹ کی رپورٹ آنے کے بعد، مذمت کے بجائے، سی آئی اے کو ’شاباشی دی جانی چاہیئے‘۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تفتیش کا سخت طریقہ کار اختیار کرنا اذیت کے زمرے میں آتا ہے، جو اپنی حدود پھلانگنے کے مترادف ہے اور جس کی مدد سے کارآمد راز اگلوانے میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔

چینی نے بدھ کے روز کہا کہ ممکن ہے کہ اس پروگرام کی راہ میں کچھ مسائل درپیش آئے ہوں۔ لیکن، اہل کاروں نے اذیت کے معاملے پر محتاط رویہ جاری رکھا۔

اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کی گئی تفتیش کے نتیجے میں ایسی اطلاعات موصول ہوئیں، جن کی بدولت مزید حملوں کو روکنے میں، بقول اُن کے، مدد ملی۔

دریں اثنا، ایسے ممالک جہاں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کی امریکہ تنقید کرتا رہا ہے، جن میں چین شامل ہے، وہ سی آئی اے کے اقدامات پر شدید نکہ چینی کر رہے ہیں۔

ساتھ ہی، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اُن اہل کاروں پر قانونی چارہ جوئی کے حق میں ہیں، جو سی آئی اے کی طرف سے اختیار کردہ تفتیش کے انتہائی سخت طریقہٴکار میں ملوث رہے۔

بدھ کے روز امریکی محکمہٴانصاف نے بتایا کہ امریکہ پر لازم ہے کہ وہ اپنی داخلی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ تاہم، اُسے اس بات سے اختلاف ہوگا کہ امریکی اہل کاروں پر بیرون ملک مقدمہ چلایا جائے۔

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں وحشتناک غلطیاں تھیں، جن کا دوبارہ ارتکاب نہیں ہونا چاہیئے۔ اُنھوں نے سنہ 2009میں عہدہ سنبھالتے ہی، تفتیش کے اضافی طریقوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی۔

سی آئی اے کے موجودہ سربراہ، جان برینن نے تسلیم کیا کہ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ادارے کی طرف سے متعین کردہ ہدایات پر طے شدہ اعلیٰ معیار کے مطابق عمل نہیں ہوا۔

تاہم، اُنھوں نے سینیٹ کے اس نتیجے سے اختلاف کیا کہ اختیار کی گئی انتہائی سخت تفتیش غیر مؤثر ثابت ہوئی۔ اُنھوں نے کہا کہ، دراصل، ملک کے خلاف سازشیں روکنے، دہشت گردوں کو پکڑنے اور زندگیاں بچانے کے حوالے سے یہ اقدامات کارآمد ثابت ہوئے۔

XS
SM
MD
LG