رسائی کے لنکس

سی آئی اے مشرقِ وسطیٰ میں خفیہ ایئربیس تعمیر کر رہی ہے، رپورٹ


صدر اوباما کی انتظامیہ مسلح ڈرون طیاروں کو دہشت گردوں کے خلاف ایک اہم ہتھیار سمجھتی ہے۔

صدر اوباما کی انتظامیہ مسلح ڈرون طیاروں کو دہشت گردوں کے خلاف ایک اہم ہتھیار سمجھتی ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے مشرقِ وسطیٰ میں ایک خفیہ ہوائی اڈہ تعمیر کررہی ہے جسے یمن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ نامعلوم مقام پر تعمیر کیا جانے والا یہ ہوائی اڈہ رواں برس کے اختتام تک فعاّل ہوجائے گا۔

مذکورہ ہوائی اڈے کی تعمیر کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی یمنی شاخ کے بارے میں امریکی انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔

مذکورہ گروپ کی جانب سے ماضی میں امریکہ کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جبکہ یمن میں جاری سیاسی بے چینی اور صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف کیے جانے والے حالیہ مظاہروں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گروپ نے حال ہی میں یمن کے وسیع رقبے کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

یمنی حکومت نے امریکہ کو ملک میں محدود فوجی کارروائی کا اختیار دے رکھا ہے اور اب القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ان کارروائیوں میں اضافے کی اجازت بھی دے رہی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہوائی اڈے کی تعمیر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صدر براک اوباما کی انتظامیہ مسلح ڈرون طیاروں کو دہشت گردوں کے خلاف ایک اہم ہتھیار سمجھتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بھی امریکی ڈرون حملے ایک معمول بن چکے ہیں تاہم امریکہ کی جانب سے سرکاری طور پر ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا جاتا۔

امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ القاعدہ کی یمنی شاخ 2009ء میں کرسمس کے موقع پر ڈیٹرائٹ جانے والے ایک طیارہ کو بم سے اڑانے کی سازش میں ملوث تھی۔ تنظیم پر گزشتہ برس ایسے پیکجز امریکہ بھجوانے کی کوشش کرنے کا بھی الزام ہے جن میں بم موجود تھے۔

دریں اثناء یمن میں مسلح شدت پسندوں اور سرکاری فورسز کے مابین لڑائی جاری ہے۔ 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے بدھ کے روز یمنی سیکیورٹی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مسلح مسلم جنگجووں نے جنوبی شہر حوطہ پر اچانک حملہ کرکے شہر کے کچھ حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

یمن میں گزشتہ کئی ماہ سے صدر علی عبداللہ صالح کے 33 سالہ طویل اقتدار کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ امریکہ اور یمن کے پڑوسی خلیجی ممالک کی جانب سے یمنی حکومت اور حزبِ مخالف کے درمیان صلح کرانے کی کوششیں صدر صالح کی جانب سے اقتدار چھوڑ نے سے مسلسل انکار کے باعث ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔ ان ملکوں کے امید ظاہر کی ہے کہ مسٹرصالح اب وطن واپس نہیں آئیں گے جو ان دنوں سعودی عرب میں زیرِ علاج ہیں۔ انہیں گزشتہ ماہ صنعا ء میں واقع صدارتی محل پر ہونے والے مارٹر حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب منتقل کردیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG