رسائی کے لنکس

شام کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہے: کلنٹن


امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن جمہوریہ چیک کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ پراگ میں پریس کانفرنس کر رہی ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن جمہوریہ چیک کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ پراگ میں پریس کانفرنس کر رہی ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے شامی حکومت کو متنبہ کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ "سرخ لکیر" ہے جسے عبور کرنے کی صورت میں امریکہ جوابی اقدام پر مجبور ہوگا۔

امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے شام کی حکومت کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ و ہ ملک میں جاری مسلح تصادم کے دوران میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہے۔

پیر کو جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے شامی حکومت کو متنبہ کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ "سرخ لکیر" ہے جسے عبور کرنے کی صورت میں امریکہ جوابی اقدام کرنے پر مجبور ہوگا۔

واضح رہے کہ مغربی طاقتیں شام میں گزشتہ 20 ماہ سے جاری بحران کے حل کے لیے براہِ راست فوجی مداخلت کا امکان مسترد کرتی آئی ہیں تاہم مغربی ممالک شامی حکومت کی جانب سے مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں سخت ردِ عمل کا انتباہ دے چکے ہیں۔

صحافیوں سے اپنی گفتگو میں سیکریٹری کلنٹن کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کا رویہ قابلِ گرفت اور اپنے ہی عوام کے خلاف اس کے اقدامات الم ناک ہیں۔

دمشق کے گرد سخت لڑائی جاری

ادھر شام میں حزبِ اختلاف کے حلقوں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں شامی افواج کی بمباری پیر کو مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہی۔

یاد رہے کہ صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے باغیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت کے نواحی علاقوں پر گزشتہ روز بھی کئی فضائی حملے اور بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی تھی۔

صدر اسد کے اقتدار کےخلاف لڑنے والے مسلح باغی گروہ ان دنوں دارالحکومت کا محاصرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں انہیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

'پیٹریاٹ' میزائل کا تنازع

دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ 'نیٹو' ترکی کو شام کی سرحد کے ساتھ 'پیٹریاٹ' میزائل نصب کرنے کی اجازت دیدے گا۔

یاد رہے کہ شامی افواج کے سرحد پار حملوں اور گولہ باری کے بعد ترکی نے اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کی غرض سے نیٹو اتحاد سے 'پیٹریاٹ' میزائل دینے کی درخواست کی تھی۔

پیر کو امریکی محکمہ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ نیٹو کی جانب سے منصوبے کی منظوری دیے جانے کے بعد ترکی میں ان میزائلوں کی تنصیب "محض چند ہفتوں کی بات" ہوگی۔

'نیٹو' ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس منگل سے برسلز میں شروع ہورہا ہے جس میں ترکی کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

لیکن شامی حکومت کا اہم اتحادی، روس میزائلوں کی مجوزہ تنصیب کی مخالفت کررہا ہے۔ ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ میزائلوں کی تنصیب سے خطے کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

ادھر روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور ترکی کے وزیرِ اعظم رجب طیب اردگان کے درمیان پیر کو استنبول میں ملاقات ہوگی جس میں امکان ہے کہ شام کی صورتِ حال اور 'نیٹو' سے 'پیٹریاٹ' میزائل دینے کی ترک درخواست کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔

شام کے معاملے پر روس اور ترکی کے موقف میں واضح اختلافات ہیں۔ روس کھل کر صدر بشار الاسد کی حمایت کر رہا ہے جب کہ ترکی نے اپنا وزن باغیوں کے پلڑے میں ڈال رکھا ہے اور شامی حکومت کی سخت مخالفت پر کمر بستہ ہے۔
XS
SM
MD
LG