رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ: افغانستان میں لڑائی سے شہری جانی نقصان میں اضافہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ افغان جنگ کا عورتوں اور بچوں پر منفی اثر جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں 2014 کے پہلے تین ماہ کی نسبت 2015 میں اسی عرصے کے دوران تشدد کے واقعات میں شہری جانی نقصان میں آٹھ فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کی پاسداری کریں۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن نے کہا ہے کہ 2015 کی پہلی سہ ماہی کے دوران افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی میں 136 افراد ہلاک اور 385 زخمی ہو گئے ہیں۔

اتوار کو جاری ہونے والے ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ مارٹر گولوں اور راکٹوں سے شہری جانی نقصان میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مگر اقوامِ متحدہ کے مشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پچھلے سال کی پہلی سہ ماہی کی نسبت اس سال کل جانی نقصان میں دو فیصد کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 73 فیصد شہری جانی نقصان کے ذمہ دار طالبان ہیں جبکہ 14 فیصد نقصان کی ذمہ دار حکومتی فورسز ہیں۔ اس رپورٹ میں سات فیصد شہری اموات اور زخمیوں کا ذمہ دار دونوں فریقین کو ٹھہرایا گیا ہے جبکہ باقی چھ فیصد کا ذمہ دار کسی کو نہیں ٹھہرایا گیا۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن کے چیف نکولس ہیسم نے شہری آبادیوں پر مارٹر گولوں اور راکٹوں سے حملوں گریز پر زور دیا۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی نے وی او اے کو بتایا کہ بغاوت کے خلاف آپریشن میں شہریوں کی حفاظت قومی سکیورٹی فورسز کی اولیں ترجیح ہے۔

صدیقی نے کہا کہ ’’افغان فورسز شہریوں کو جانی نقصان سے بچانے پر بہت توجہ دیتی ہیں۔ مثلاً ہم جب بھی کسی آپریشن کی منصوبہ بندی کرتے ہیں یا اس پر عملدرآمد کرتے ہیں، ہمارے ذہن میں سب سے پہلی بات یہ ہوتی ہے کہ شہریوں کی حفاظت کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ مگر کئی مرتبہ طالبان شہریوں کے گھروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘‘

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ افغان جنگ کا عورتوں اور بچوں پر منفی اثر جاری ہے۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں بچوں کے جانی نقصان میں 123 ہلاکتیں اور 307 زخمی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ جنگ کے فریقین نے شہریوں خصوصاً عورتوں اور بچوں کو نقصان سے بچانے کے عزم پر فوری عمل کریں۔

2009 میں جب سے اقوامِ متحدہ نے یہ ریکارڈ رکھنا شروع کیا اس کے بعد سے گزشتہ سال 10,000 افغان شہریوں کو سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔

XS
SM
MD
LG