رسائی کے لنکس

یمن جنگ بندی خاتمے کے قریب، لڑائی میں درجنوں ہلاک و زخمی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صدر ہادی کی طرف سے عارضی جنگ بندی کے ختم ہونے کے بعد یمن کے سیاسی گروپوں کا ایک اجلاس پیر کو بلایا گیا ہے۔

یمن کے جنوبی علاقوں میں شیعہ حوثی باغیوں اور حکومت کی وفادار فورسز کے درمیان ہونے والی لڑائی میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوگئے ہیں۔

شہر تعز میں ہفتہ کو دیر گئے حوثیوں اور ملیشیا کے درمیان جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ لڑائی منگل کو شروع ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جاری ہے۔ اس جنگ بندی کی میعاد اتوار کو دیر گئے ختم ہو رہی ہے۔

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے لیے کی جانے والی عارضی جنگ بندی کا مقصد گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری لڑائی سے متاثرہ افراد تک خوراک، ایندھن اور ادویات پہنچانا تھا۔

سعودی اتحاد جس کو مغرب کی حمایت بھی حاصل ہے، نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح نواز نے جنگجوؤں کے خلاف مارچ کے اواخر میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد صدر عبد ربو منصور ہادی کی حکومت کی عملداری بحال کرنا تھا جو باغیوں کے حملوں کے بعد سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

ہفتے کی رات کو ڈہالیہ کے علاقے میں بھی لڑائی ہوئی تاہم ابھی تک ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

صدر ہادی کی طرف سے عارضی جنگ بندی کے ختم ہونے کے بعد یمن کے سیاسی گروپوں کا ایک اجلاس پیر کو بلایا گیا ہے۔

اس اجلاس کو حوثیوں اور سابق صدر کے وفادار جنگجوؤں نے مسترد کر دیا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

تاہم صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگرس کے اہم رہنما ریاض پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے ہادی کی حکومت سے اپنی وفاداری کا عہد کیا ہے۔

ان شخصیات کی طرف سے ہفتے کو جاری بیان میں صالح سے پیپلز کانگرس کی صدارت سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ ریاض مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

XS
SM
MD
LG