رسائی کے لنکس

ملک میں ہونے والے ان انتخابات کو بدعنوانی کے متعدد الزامات کا نشانہ بننے والی وزیراعظم رجب طیب اردوان کی حکومت کے لیے ایک ریفرنڈم بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

ترکی میں اتوار کو بلدیاتی انتخابات کے موقع پر مخالف گروپوں کے درمیان جھڑپوں سے کم ازکم چھ افراد ہلاک ہوگئے ۔

ملک میں ہونے والے ان انتخابات کو بدعنوانی کے متعدد الزامات کا نشانہ بننے والی وزیراعظم رجب طیب اردوان کی حکومت کے لیے ایک ریفرنڈم بھی تصور کیا جارہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات میں توقع ہے کہ پانچ کروڑ لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

حالیہ دنوں میں ترکی کی حکومت کی طرف سے متعدد ایسے اقدامات بھی سامنے آچکے ہیں جن سے اس کی ساکھ پر کئی سوالیہ نشان کھڑے ہوئے۔

حکام نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئٹر اور وڈیو شیئرنگ کی سائیٹ یوٹیوب تک رسائی پر قدغنین لگائی تھیں جس کی وجہ حکومت میں شامل عہدیداروں سے متعلق مبینہ بدعنوانی پر مبنی بعض ریکارڈنگ کا ان پر جاری ہونا تھا۔

2013ء کے وسط میں ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے بعد ہونے والے یہ پہلے انتخابات ہیں۔

وزیراعظم اردوان یہ کہہ چکے ہیں ان کی جماعت کو اس بار گزشتہ انتخابات میں ملنے والے 38 فیصد ووٹوں سے زیادہ ووٹ حاصل ہوں گے۔

لیکن مبصرین اسے حکومتی جماعت کے لیے ایک کڑا امتحان قرار دے رہے ہیں۔

انتخابات کے نتائج اس بات پر بھی اثر انداز ہوں گے کہ آیا اردوان اگست میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں۔

ان تمام خدشات اور سوالات کی بنا پر دیگر تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار بھی کرتی آ رہی ہیں۔
XS
SM
MD
LG