رسائی کے لنکس

ایشیائی ممالک کو پانی کی کمیابی کاسامنا


ایشیائی ممالک کو پانی کی کمیابی کاسامنا

ایشیائی ممالک کو پانی کی کمیابی کاسامنا

ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور صنعتی شعبے کی ترقی کی وجہ سے پانی کے معیار پر اثر پڑ رہا ہے اور پینے کے صاف پانی تک رسائی دشوار ہوتی جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے پانی کے مسائل سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے کی آبادی چار ارب نفوس تک پہنچ چکی ہے، اس لیے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے سلسلے میں یہاں آبادیوں کے درمیان باہمی تنازعات اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔

ایک نیوز رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملک اپنی کثیر آبادی کی وجہ سے پانی کی فراہمی سے متعلق فہرست میں دنیا بھر میں تقریباً آخری نمبر پر ہیں۔

اس خطے میں دستیاب پانی کا تقریباً 80 فی صد حصہ زراعت پر صرف ہو جاتا ہے، مگراس کے ساتھ ساتھ وہاں صنعتی شعبوں میں بھی پانی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ چین اور ویت نام میں صنعتی شعبے میں پانی کا استعمال1992ء سے تین گنا ہو چکا ہے۔

بنکاک میں قائم اقوام متحدہ کے علاقائی اقتصادی اور سماجی کمیشن کے پانی کے امور سے متعلق شعبے کے سربراہ لی ہوٹی کہتے ہیں کہ مسئلہ صرف پانی کی مقدار کا ہی نہیں بلکہ معیار کا بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پانی کا معیار اور اس آلودگی ایشیائی ممالک کو درپیش ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ترقی کے عمل کے باعث پانی زیادہ سے زیادہ آلودہ ہوتا جا رہا ہے اور زیادہ تر بڑے شہری علاقوں میں پانی کا معیار پہلے سے کہیں زیادہ گر چکا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں پانی اب بہت زیادہ آلودہ ہے اور یہ رجحان عام ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی چین میں خشک سالی کی وجہ سے یہ مسئلہ اس سال نئے سرے سے توجہ حاصل کر رہا ہے۔ کچھ علاقوں میں بڑے دریاؤں اور جھیلوں میں پانی کی سطح گر کر گذشتہ 50 سال سے زیادہ عرصے میں کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔

حکومتیں پانی کے حوالے سے 2015ء تک اس صدی کے لیے مقرر کیے جانے والے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ان ترقیاتی اہداف میں ان لوگوں کی تعداد میں کمی لانا شامل ہے جنہیں پینے کے صاف پانی کی مستقل رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ نکاسیِ آب کی بنیادی سطح کی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کے پانی کے وسائل سے متعلق شعبے میں ماحولیاتی امور سے متعلق عہدے دار ارمینا سوکو کا کہنا ہے کہ نکاسیِ آب کی ابتر صورت حال پینے کے پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کی کوششوں کو متاثر کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کی سہولتوں تک رسائی بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس کی وجہ سے پورے گھر کے پانی کا معیار گر جاتا ہے، جس سے انسانی صحت متاثر ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ ماحول کو متاثر کرتا ہے اور اس سے پانی کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے، کیونکہ گھروں اور آبادیوں سے پانی میں شامل ہونے والی آلودگیاں بڑے پیمانے پر پیٹ کے امراض کا باعث بنتی ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کئی ملکوں میں پانی کی فراہمی کی صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے، خاص طور پر علاقے کے غریب ترین ملکوں میں۔ مالدیپ، بھارت، پاکستان، ازبکستان، افغانستان اور فلپائن، سب کو پانی کی فراہمی میں بڑھتی ہوئی کمی، اس کے ناقص معیار اور بڑھتی ہوئی آبادیوں کی وجہ پانی کی قلتوں کا سامنا ہے۔

لی ہو کہتے ہیں کہ ملکوں کے اندر بھی پانی کے مسئلے وجہ سے اس کی رسائی کے حوالے سے تنازعات بڑھ سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ چین میں ہونے والے ایک مطالعاتی جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ 1990ء میں پانی کے دس ہزار سے زیادہ تنازعات پیدا ہوئے تھے جب کہ اس کے مقابلے میں ان کی تعداد بڑھ کر12 ہزار ہو گئی تھی۔ لیکن چین نے کمیونیٹیز کے درمیان اس سلسلے میں اختلافات طے کرنے میں مدد کے لیے نئے قوانین منظور کر کے مقامی تنازعوں کو کم کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG