رسائی کے لنکس

تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں : ماہرین

  • نفیسہ ہودبھائے

تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں : ماہرین

تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں : ماہرین

موسمیاتی تبدیلی کے اسباب میں کافی عوامل شامل ہیں جِن میں آبادی میں بے تحاشہ اضافہ، صتکا ری کا فروغ، موٹر گاڑیوں اور مشینوں کا بے انتہا استعمال اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا خطرناک حد تک بڑھنا، ساتھ ہی، جنگلات کا سکڑنا

حکومت ِ پاکستان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی، ڈاکٹر قمرالزماں چودھری نے کہا ہے کہ شدید موسمیاتی آفات، بشمول سیلاب، قحط اور طوفان اِس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عالمی موسم میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔

جمعے کو ’وائس آف آمریکہ‘ کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےاُنھوں نے کہا کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے موسمی تبدیلی کا شدت سے احساس ہوتاجارہا ہے۔

اسباب کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر چودھری نے کہا کہ اِن کی وجہ درختوں کا بے دریغ کاٹا جانا، آلودگی اور صنعتکاری کے فروغ کے باعث کاربن آکسائیڈ کے اخراج میں بے تحاشہ اضافہ ہے۔

پاکستان کی مثال دیتے ہوئے، ڈاکٹر قمرالزماں چودھری نے کہا کہ پچھلے سال پاکستان میں آنے والے سیلاب سے ایک ماہ قبل پاکستان میں 53سینٹی گریڈ درجہ گرمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو دنیا کا گرم ترین ٹیمپریچر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ موسم شدید تر ہوتا جارہا ہے اور ہر چند ماہ کے بعد دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں کوئی نہ کوئی اتنا شدید واقعہ پیش آتاہے کہ پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ جاتے ہیں۔

’اسکوپ‘ کے چیف ایگزیکٹو، تنویر عارف کا کہنا تھا کہ سائنسی اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ موسم کی تبدیلی اورعالمی تپش کا پاکستان پر سنگین اثر ہے۔اِس سلسلے میں اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے جو اقدامات لیے گئے ہیں اُن میں ’قومی موسمیاتی پالیسی‘ تیار کیا جانا شامل ہے۔ اِس کو وضع کرنے سے قبل 2008ء سے 2010ء تک پاکستان کے 40نامور سائنس دانوں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس کے بیشمار اجلاس ہوئے جس نے قومی سطح پر سفارشات پیش کیں۔

’فی الحال، اِس نئی قومی موسمیاتی پالیسی اور’ ایکو سسٹم‘ پر عمل درآمد کے لیے ایکشن پلانز بن رہے ہیں، تاکہ مربوط قدم اٹھائے جائیں۔

جاوید علی خان ، ڈائریکٹر جنرل، وزارتِ ماحولیات کے مطابق ، موسمیاتی تبدیلی کے اسباب میں کافی عوامل شامل ہیں جِن میں آبادی میں بے تحاشہ اضافہ، صنعتکاری میں فروغ، موٹر گاڑیوں اور مشینوں کا بے انتہا استعمال اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا خطرناک حد تک بڑھنا، ساتھ ہی، جنگلات کا سکڑنا۔

اُنھوں نے کہا کہ سرکاری طور پر بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں جنگلات پانچ فی صد ہیں، جب کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ محض تین فی صد رقبے پر جنگلات ہیں۔

’ گلوبل وارمنگ تیزی کے ساتھ ظہور پذیر ہورہی ہے۔ پہلے تو ہم سوچتے تھے کہ یہ معاملہ ہاٹ سائیکل کے بعد کولڈ سائیکل کا ہے، اور ہزاروں سالوں یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ لیکن، اب جِس طرح سے گلیشئر پگھل رہے ہیں اور جِس طرح سے ہر سال ٹیمپریچر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ سب باتیں خوف دلاتی ہیں۔ ‘جاوید علی خان نے امریکہ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ دو تین برسوں سے امریکہ میں بہت زیادہ گرمی پڑ رہی ہے، جو کسی طور اچھا ’ٹرینڈ‘ نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG