رسائی کے لنکس

پاکستان: شمالی علاقوں میں اوسط سے زیادہ مون سون بارشوں کی توقع


فائل فوٹو

فائل فوٹو

محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا اور شمالی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے، تاہم صوبہ سندھ اور بلوچستان کے پہلے سے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کم بارشیں ہو سکتی ہیں

پاکستان میں مون سون کی آمد سے قبل اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور ایک اہم اجلاس کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اس سال مون سون کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں اوسط سے زیادہ جبکہ جنوبی علاقوں میں اوسط سے کم بارشوں کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا اور شمالی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے، تاہم محکمہ نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے پہلے سے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کم بارشیں ہو سکتی ہیں، جس سے خشک سالی کی کیفیت میں اضافہ ہو گا۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی زیرِ اہتمام سال 2015 میں موسم برسات کی تیاری کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیے گئے ایک سیمینار میں محکمہ موسمیات کی طرف سے بتایا گیا کہ زیادہ تر بارشوں کا امکان جولائی کے آخری ہفتے سے لے کر اگست کے آخری ہفتے تک ہے۔

محکمہ موسمیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر قمر الزمان ںے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جنوبی علاقوں میں کم بارشوں کی توقع مخصوص موسمی کیفیات کی وجہ سے کی جا رہی ہے۔

’’بحر الکاہل کی سطح پر درجہ حرارت تیز ہونے کی وجہ سے پوری دینا کے موسمی پیٹرن میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے جسے ایل نینو کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں یہ مشاہدہ کیا گیا تھا کہ جس سال ایل نینو ہو اس سال کچھ علاقوں میں بارشیں کم ہوتی ہیں۔ اسی کی بنیاد پر یہ پیشن گوئی کی گئی ہے۔‘‘

تاہم اس سال کراچی میں جاری گرمی کی لہر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ موسمی تغیر کا ایک مظہر ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر غیر متوقع بارشوں اور خشکی سالی کا سبب بنی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمی تغیر کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک اقدام اس کی بنیادی وجوہات کو کم کرنا ہے، جیسے ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روکنا اور دوسرا اقدام اس کے اثرات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے سے متعلق ہے۔ مثلاً اپنے انفراسٹرکچر نظام کو اس طرح تعمیر کرنا کہ وہ موسمی تغیر کے اثرات سے محفوظ رہ سکے۔

پاکستان میں شدید نوعیت کے موسمی حالات 2010 اور 2011 میں غیر معمولی بارشوں کی صورت میں دیکھے گئے جس کے باعث ملک کے بہت سے علاقے سیلاب کی زد میں آ گئے، جبکہ رواں سال شدید گرمی کی لہر نے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یورپ، امریکہ اور روس سمیت بہت سے دیگر ممالک میں بھی حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہر دیکھی گئی۔

XS
SM
MD
LG